
صبااحمد
القدس مسجد اقصی ہم مسلمانوں کا قبلہ اول یہودیوں کے قبضےمیں پچھترسال سے ہے۔ فلسطینی اس کےحصول کےلیے لڑرہے ہیں ۔غزہ کی پٹی
پربچے بوڑھے نوجوان شیر خواربچے شہادتیں دے رہے ہیں ۔اسرائیلی دن رات خون کی ہولی کھیلتے ہیں اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنارہتا ہے۔عیسائیوں کوذراسی خراش بھی پہنچ جائےتوواویلا مچا دیتےہیں۔مغرب میں ابھی روس کا یوکرائن پر حملے کا سوگ منایا جا رہا ہے۔ پورا یورپ روتا بھرتارہا لوگ احتجاج کرتےرہےتھےمگرمسلمانوں کی باری میں کوئی ہیومن رائٹس کی تنظیم اٹھ کھڑی نہیں ہوئی۔
ہرمذہبی تہوارعیدرمضان پراسرائیلی فلسطینیوں پربالعموم غزہ کےلوگوں پرظلم وستم کرتےہیں۔لوگوں کوشہید کرتےہیں۔نماز نہیں پڑھنےدیتے۔عبادت نہیں کرنےدیتے۔کبھی ان پر کتے چھوڑتے ہیں، آنسوگیس کا استعمال کرتے ہیں۔ فوجی بری طرح مارتےہیں ۔ بچوں کو پکڑکرلےجاتےہیں۔ان پر ظلم وستم کرتےہیں۔بوڑھےجوان ان کے شرسے محفوظ نہیں ۔ آئےدن سوشل میڈیا پران کے ظلم وستم کی ویڈیوزوائرل ہوتی ہیں مگر ہماری مسلم دنیاخواب خرگوش کی نیند سو رہی ہے۔ یاسرعرفات ساری زندگی فلسطینیوں کا مقدمہ لڑتے رہے۔
عثمانیہ دورمیں سلطان عبد الحمید نے یہودیوں سےکہا تھا کہ زمین کا ایک ٹکرا بھی فلسطین کا تمہیں صیہونی ریاست بنانےکونہ دوں گا۔اس نےروس جرمنی اوربرطانیہ جیسی سپرپاورز کو اپنی حکمت عملی سےناکوں چنے چبوائے ۔ یہی وجہ تھی اس کا دوربہت کٹھن دورتھا ۔اس کی وفات کے بعد۔ یہودیوں کے لیے۱۹ ۱۹ میں یہودیوں نے وہاں زمینیں خرید کربہانے سے گھر بنا کر فلسطین کی زمین پرقبضہ کرکے اسرائیل بنانےکی سازش کو حتمی شکل دی ۔ ابھی بھی ان کی عبادت گاہ اینٹوں کی ایک دیوار ۔۔۔۔۔ دیوارگریہ ہی ان کےحصے میں آتی ہے۔ اس کی اینٹوں میں منہ چھپا کریہ روتے ہیں۔ جیسےوادی سینہ میں میں یہ مارے مارے پھرتے رہے۔ برسوں دنیا میں ہٹلرنے انہیں مارا اب اللہ تعالی نے خواری لکھی ہے ان کی قسمت میں ۔
ان کی ایک وزیراعظم گولنڈن مائرگزری ہے۔اس نے حضورصہ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیاکہ جب حضور صہ کا وصال ہوا تو ورثے میں دو تلواریں تھیں ۔ اس نے اپنےلوگوں سے کہا دن مین ایک روٹی کھاؤمگر اسلحہ بناؤ۔اب یہی وجہ ہے کے اسرائیل کے پاس جدیداسلحہ ہے دنیا کی اکنامی اس کے ہاتھ میں ہے۔ان کے بچوں کا خاص مضمون حساب اورالجبراہے۔ دودہ اوربادام ان کی غذا کا اہم جزہے اورسات آٹھ سال کے بچوں کووہ اسلحہ کا استعمال اوربندوق چلانا اس کوکھولنا اور اسمبل کرنا سیکھاتے ہیں بہترین جنگی حکمت عملی وضع کرتے ہیں، اگرچہ وہ آبادی میں کم مگرموثر افراد بناتے ہیں ۔ہم مسلمان ان کے اشاروں پرناچتے ہیں امریکہ اسرائیل کا ایجنٹ ہےاورہم آئی ایم ایف کےغلام ۔۔۔۔
ہماری حکومتیں سربراہان ان کے ہاتھوں کی کٹ پتلیاں ہیں جبکہ ارکان اسلام توحید، نماز،روزہ حج، کےبعد جہاد ہے۔ ہمیں پہلے این سی سی یعنی نیشنل کریڈٹ کورس شہری تحفظ کی تربیت دی جاتی تھی کہ اچانک حملے کی ،صورت میں عام شہری اپنا اور لوگوں کا تحفظ کر سکیں ۔اب اس کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں میں کالج کی سطح پر یہ تھا مگر افسوس ہم مسلمان غفلت میں پڑے سورہے ہیں۔ دشمن ہمارے سروں پرمنڈ لا رہے ہیں۔ دشمن سرپرپہنچ چکا ہے۔ ہم پردین کی حفاظت کااور اپنےلوگوں کا حق ہے،مگرپوری دنیا کا مسلمان عیش وعشرت میں مگن ہے ۔
وہ اپنا کام اورمقصد حیات بھلا چکا ہےکہ اس کا داعی ہونے کا کام دین کی سربلندی اورمسلمان کےکام آنا ہے۔مسلمان جسد واحد کی مانند ہے۔ جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو درد سارے جسم کو ہوتا ہے کیونکہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ رنگ نسل ملک کوئی اہمیت نہیں رکھتےبس کلمہ طیبہ ان کی پہچان اوررشتہ ہے۔ایک اللہ پرایمان اورحضرت محمد صہ ان کےآخری نبی ہونے پرایمان ہے۔ توہم پر فلسطینیوں کا حق ہے کہ ہم ان کے لیےلڑیں اپنےجذبہ جہاد کو نہ سلائیں۔ اب جنگ میدان میں تلوار یا ایٹم بم گراکر نہیں بلکہ سوشل میڈیا پرلڑی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پرفلسطینیوں کے شانہ بشانہ لڑیں ۔ ان کی آواز بن جائیں۔ فلسطین کی ازادی کے لیے آواز اٹھائیں ۔ اقوام متحدہ کا دروازہ با بار کھٹکھٹائیں سب مسلمان متحد ہوجائیں ۔





































