
منیبہ ارشد
حالیہ دنوں میں کھیل کےمیدان سےایک نظارہ پوری دنیا نےدیکھا کہ ایک غیرمسلم ملک کا مسلمان کھلاڑی اپنی جیت کی خوشی میں خود کو سجدہ
کرنےپرآمادہ نہیں کر پاتا،غالباً سوچتا ہوگا کہ جن کو سجدہ کرکرکے یہاں تک پہنچا ہوں۔آج اگر حقیقی معبود کو سجدہ کرلیا تو سارے انعامات سےمحروم کر دیا جاؤں گا۔ اس لیے اس ایک سجدے سے ہزارسجدے بہتر۔۔۔
اوروہی پرانی بحث کہ دیکھووہ کتنامجبورہے،اپنی زمین پرسجدہ نہ کر سکا۔ایمان کا تقاضا تویہ تھا کہ جورب اسی مجبورمعاشرےمیں رہتےہوئے آج اس کو اس میدان اوراس مقام تک لایا ۔ اس کا کھلے عام شکر ادا کرتا اورلاکھوں لوگوں کے سامنے اپنےرب کی کبریائی بیان کرنے کا سنہری موقع نہ جانے دیتا تو ضرور ان ہزار سجدوں سے نجات پا لیتا جن کو مجبوری کہا جاتا ہے کیونکہ یہ موقع ہی توامتحان ہے۔
ہم بچپن سےسنتےآئےتھےکہ حشرکےدن رب کو سجدہ کرنےکےقابل وہی ہوگاجو دنیا میں رب کوسجدہ کرتا تھا لیکن کیا کہیے یہ تو ایک غیرمسلم معاشرے کے باسی کی کہانی ہے۔ مسلمان معاشرہ ملاحظہ کیجئے۔ ہم نے واسجد واقترب کامعنی بہت خوب سمجھا ہے کہ جس سے قریب ہونا ہےاس کو سجدہ کرو۔ دنیا کے عیش و آرام کو سجدہ، غیر اسلامی نظام کو سجدہ، خواہشات کو سجدہ، باطل نظریات کو سجدہ اور یہ تمام سجدے کر چکو تو بہت قریب ہےکہ ڈالو کفر کی کبریائی کو سجدہ۔۔۔ آہ! ہم بھی فلسطین کی مدد کےمحاذ پر ایک رب کو سجدہ کرنے سے اسی طرح ہچکچا رہے ہیں ،جیسے حساب لگا رہے ہوں کہ اس وقت کس کو سجدہ کرنا بہتر ہوگا۔
ہم وہن زدہ مسلمان اپنی خواہشات کے برجوں کوسجدہ کرنےکےاتنےعادی ہوگئےکہ اب دل میں ظلم کوبراسمجھنےوالا دم توڑتا ایمان رہ گیا ہے،جس کی کمر میں اصل رب کو سجدہ کرنے کی سکت نہیں۔ اگر اس کو سجدہ کر لیا تو ہاتھ سے نکل جائیں گے یہ دنیا کے فائدے۔یہ حقیقت بھول گئے کہ ایک رب کے آگے جھکو تو پھر وہ کسی اور کے آگے جھکنے سے بچا لے گا۔
یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات





































