
منیبہ ارشد
ہم ایک اسلامی ملک میں رہنےوالےغیراسلامی مسلمان ہیں۔ ہمارے ہاں جائیداد کی غلط تقسیم،مکان و زمین پر قبضہ اورخاندانی دشمنی پرنفرت
اوراپنا حق لینے کی جدوجہد تو نصب العین بنا کربچوں کے ذہن میں بھردی جاتی ہےاوربچہ بچہ اپنی خاندانی (کھلےاورچھپے )دشمن سےواقف ہوتا ہے،اس کے ساتھ تعلقات کو حرام سمجھتا ہے،حق کے لیے لڑتا مرتا ہے لیکن جب بات اپنے دین کے دشمنوں کی ہو تو ہمارے بچےکیا ہم خود اس کے بارے میں ناواقف ہیں کہ“حماس کو کیا پڑی تھی فلسطین کو مشکل میں ڈال دیا”اور اسی وقت ہمارے اندر“انسانی حقوق “اور“اسلام امن کا درس” والے وائرس آجاتے ہیں جو ہمارااصل سافٹ وئر(لاغالب الا اللہ )ہیک کرلیتے ہیں اور ہمیں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ آگ جو ابھی کسی اورمسلمان کے گھرپر لگی ہے ،وہ بم جو کسی اور مسلمان کے بچے پر گراہے کل کو اس کی زد میں میرا گھر میرا بچہ بھی آنے والا ہے۔
بیت المقدس کی حفاظت میں جہاد کرنےوالے”حماس”کے وہ مٹھی بھرمجاہدین جن سے باطل کی سب سےبڑی فوج خوف کھا رہی ہے۔ ان کو گھٹی میں
“وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ” پلایا جاتا ہے،جن کےخون میں “إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا”کے خلیے بنتے ہیں۔
یہ ایک دن میں نہیں ہوتا۔ اس کے لیےبرسوں وقت پرورش کرتا ہے۔نسلیں قربان ہوتی ہیں۔ گھربار اُجڑ جاتے ہیں۔ سوچ کو نظریہ بنانا پڑتا ہے۔ ابراہیم علیہ سلام کی طرح یکسو ہونا پڑتا ہےلیکن کیا کہیے ہم اپنے دین کےلیے کچھ چھوڑنا تودوراس کو پوری طرح اپنانے کو بھی تیار نہیں۔
پھریہ فوجیں بھی تو ہمارے ہی جیسےمسلمانوں کی ہیں جن کو اقتدار کےلیےتو ہم دست وگریبان پاتے ہیں لیکن جہاد کے نام پرانسانی حقوق یاد آتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ آگ ہمارے گھرتک پہنچے آؤ اپنی تربیت کریں۔اپنےنظریات کھنگالیں۔ اپنے ووٹ کا اہل ڈھونڈیں جووقت پڑنے پر کسی کی مدد کے لیے فوج بھیجے۔جو اسلام کا قلعہ بنے۔ امتَ مسلمہ کو جس سے اُمیدیں ہوں۔ آؤ وہ نسل تیار کریں جن کے خون میں حق و باطل کی پہچان اورجہاد کے خلیے ہوں جن کا جگرحماسی ہوں۔ آؤ ایک کنکر سے شروعات کریں۔
آج اسرائیل کی کمپنی کی کم از کم ایک چیزاپنی لسٹ سے نکال دیں۔ رہن سہن میں ایک مشابہت ہی نکال دیں۔ایک روپیہ ہی عطیہ کریں۔ایک دردِ دل سے دعا ہی کریں۔ ایک یکجہتی ہی پوسٹ کریں۔ایک کنکر ہی توآغاز ہے۔
نوٹ: ایڈیٹر کا بلاگرکے خیالات سےمتفق ہونا ضروری نہیں (ادارہ رنگ نو)





































