
منیبہ ارشد
وہاں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کااسرائیلی ظلم کا جواب۔۔۔یہاں مسلمانوں کی مذمت کہ کیا ضرورت تھی سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے کی۔۔وہاں اسرائیل کی
طرف سےغزہ کے عوام کوعلاقہ چھوڑنے کے لیےدیا گیا محدود وقت۔۔۔یہاں مسلمان ملک مصر کی سرحد سے منسلک دروازہ بند۔وہاں اسرائیل کا شہرسے جاتے ہوئے لوگوں پرحملہ، پانی بند، بجلی بند۔۔
یہاں عالمی اداروں خصوصاً قوامِ متحدہ کی خاموشی۔۔۔وہاں غزہ پرظلم کی انتہا،جنگی قوانین،انسانی حقوق کی دھجیاں ۔۔۔ یہاں اسلامی اتحادی فوج کی خاموشی۔وہاں ہسپتالوں ،ایمبولینس، مہاجرکیمپ اورسکولوں پر بھی بم حملے۔یہاں اسلام کے مرکزسعودیہ میں جشن میں گم مسلمانوں کی خاموشی۔۔۔وہاں غزہ کے سکولوں کےتمام طلباء شہید ہو جانے پرتعلیمی سال کے اختتام کا اعلان۔۔۔یہاں عالمی اداروں کی اپنے مالک سےلاچار اور رسمی سی جنگ بندی کی درخواست۔
وہاں فلسطینی عوام ملبےتلے دبے ہوئے بوند بوند پانی کوترسےہوئے،سوکھی روٹیوں کوٹٹولتے ہوئے،ہاتھوں سےملبہ ہٹاتے ہوئے،ماؤں کو پکارتے بچے ،بچوں کو پکارتی مائیں،بچوں کے ٹکڑے تھیلی میں اکھٹے کرتے ہوئے باپ، ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے زخمی ننھے بہن بھائی، بے ہوشی کے بغیر آپریشن کرواتےقرآن پڑھتے ہوئے بچے۔۔اللہ کا ذکر کرتے ہوئےآدھے کٹے ہوئے جسم اوریہاں بے حس مسلمانوں کاپنجاب میں کلچر کے نام پر ناچ گانے کے جشن کاانتظام۔۔
دین کا آدھا حصہ،صرف میٹھا میٹھا دین پھیلانےوالےعلماء کی خاموشی ۔۔۔
اور اب سنئے فاسفورس بموں کےحملے اورتیس دن میں بتیس ہزارسے زائد فلسطینوں کوشہید کرنےکے بعداسرائیلی وزیرکا بیان کہ غزہ پرایٹم بم ایک آپشن ہے۔اوراس آپشن کےجواب میں ایٹم بم رکھنےوالےواحد اسلامی ملک کی خاموشی۔۔۔ ہربے حس انسان کی خاموشی۔۔
کیا ابھی ہیں کچھ اور ؟





































