
منیبہ اشد
سنا ہےاس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کوسرمہ فروش آہ بھرکے دیکھتے ہیں
۔ سنا ہے چشمِ تصور سے دشت امکاں میں
پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
یہ اوراس جیسی بےشماربے ہودہ شاعری ظاہرہے محرم عورتوں کا تصور کرکےتو نہیں کی گئی ہوگی اوراس پررہی سہی کسرمیڈیا پوری کرتاہےجو عورت کا کردار یہ دکھاتا ہے کہ اگر تم پردہ کروگی تو تم غریب اوربدصورت لگو گی۔ کوئی تمہیں چاہنے والا نہیں ہوگا۔
جب اسلامی معاشرے میں عورت کی خوبصورتی کامعیار بےحیا ہونا بنا دیا گیا ہےتو کیا ایک مومن عورت بدصورت ہے؟کیا قرآن وحدیث میں عورت کی خوبصورتی کالی زلفیں اور گہری آنکھیں بتائی گئی ہیں؟ یا شرم وحیا،جھکی نظریں اورسر تا پا،چادروں سے ڈھکا ہونا بتایا گیاہے؟
توسنئیے قرآن وسنت کا پیغام یہ ہےکہ حجاب وجلباب مومن عورتوں کی نشانی ہےاور ان پر فرض ہے،لیکن کوئی عورت اگرخود کواس زمرے میں نہیں سمجھتی توبے شک پردہ مت کرے اوربنی رہے بےحیا نگاہوں کا مرکز اور ہاں یہ جواب بھی خوب سننےکو ملتا ہےکہ پردہ آنکھ کا ہوتا ہےاورہم تواپنے لیے تیار ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ۔
جب پردے کا حکم آیا تو اُمت کی بہترین عورتوں نےاُمت کے بہترین مردوں سے پردہ کیا۔کیا تم ان کی پاکیزگی کی خاک برابربھی ہو؟ بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا جنتی عورتوں کی سردارہیں اور باقی عورتوں کوجنت میں جانے کے لیے ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا ،نہ کہ کسی بے حیا ماڈل یا اداکارہ کے۔
پوری دنیا اللہ رسول کے حکم کےخلاف عمل کرنے لگے تواللہ بے نیاز ہے،لیکن ایک عورت جب شریعت کی حدود کوقائم رکھ کر،چاہے دنیا کے سب مرد اندھے ہی ہوں پردہ و حجاب کرتی ہے،گرمی سےسانس کی گھٹن سہتی ہے،نا محرموں کو بناؤ سنگھار نہیں دکھاتی تو اللہ کی نظر اس پر ہے۔ وہی اللہ کے لیے خاص ہے۔
پیاری بہنو !کیا ہمیں معاشرے میں وہ عورت بن کر دکھانا ہےجس کا ذکر شاعروں کے کلام میں ہے یا وہ عورت جو اللہ کے کلام میں ہے۔ فیصلہ کیجئے۔





































