
منیبہ ارشد
ہمارے ہاں گھریلوخواتین اورلڑکیوں کو بلحاظِ صحت کافی مسائل کاسامنارہتا ہےاوران کو زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول بھی کر لیا جاتا ہے جس کا ہمارے معاشرے پر گہرا اثر
پڑتا ہے کیونکہ ایک صحت مند عورت ہی اچھی ماں، اچھی گھردار اوراچھی مومنہ بن سکتی ہے۔اسلام میں بھی صحت مند مومن کو کمزور مومن کے مقابلے میں بہترکہا گیا ہے۔
لیکن ہرچھوٹے موٹے مسئلے کے لیے ڈاکٹروں کے پاس جانے اورفیس ادا کرنےکی ضرورت نہیں،علامات پرتھوڑی توجہ کےساتھ گھر پرعلاج ممکن ہے۔
آئرن کی کمی کی علامات:آنکھوں کے نیچےاچانک حلقے نمودار ہونا،بازو اور ٹانگوں کا آسانی سےسُن ہوجانا، بات کرتے ہوئےسانس پھولنا، چہل قدمی کرتے ہوئے ہاتھ پاؤں پھول جانا، چہرے پر پسینہ رہنا اوربال گرنا۔
وٹامن بی کی کمی کی علامات: پاؤں اور ٹانگوں میں کچھاؤ جیسی بے چینی اورسردی سے پاؤں میں بل پڑنا، تھوڑا سا پانی والا کام کرنے سے ہاتھوں میں جھریاں پڑجانا، منہ خشک ہونا اور زبان اکڑجانا یا سوجی ہوئی محسوس ہونا،توتلا پن آجانا،منہ کے کناروں کی جلد پھٹ جانا۔ دماغی طور پر حاضر نہ ہونا۔
وٹامن ڈی کی کمی کی علامات: مجموعی طور پر جلد اور سر کی خشکی یا مسائل اورجسمانی تھکن،آسانی سے کسی پٹھے میں کچھاؤ آجانا اور ٹھیک نہ ہونا۔ آجکل ایک عام بیماری فروزن شولڈر یعنی جما ہوا کندھا ہے جس میں گردن سے شروع ہوا درد بازواور کلائی تک پہنچ جاتا ہے اور بازو کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
وٹامن سی کی کمی کی علامات
بے رونق چہرہ اور کٹی پھٹی جلد، آسانی سے زکام ہو جانا اور طویل عرصے تک رہنا۔ خواتین تیس سال کی عمر کےبعد تھائیرائڈ کاٹیسٹ ضرور کروائیں۔
ہم تھوڑی سی اپنے کھانےپینے اور ترجیحات میں تبدیلی کر کےاپنی صحت بہتر کر سکتے ہیں، وٹامن ڈی کے لیے کم از کم آدھا گھنٹہ دھوپ میں بیٹھنا،اور دودھ کا روزانہ استعمال ۔وٹامن سی کے لیے ترش پھلوں کا استعمال، آئرن اور وٹامن بی کے لیے چقندر، گاجر اور لیموں کا جوس، سلاد، ہفتہ میں ایک بار کلیجی اور ایک بار پالک،ایک مٹھی بھر کالی کشمش روزانہ ضرور کھائیں اور صحتمند زندگی کا لطف اٹھائیں۔





































