
منیبہ ارشد
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”اسلام شروع ہواغریب اورآئندہ چل کر بھی ایسا ہی ہوجائے
گاجیسا کہ شروع ہواتھا پس غریبوں کے لیے (اسلام پر عمل کرنےوالے)خوش خبری ہو۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“[مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 159]
کیا ہمارا کوئی حصہ ہےدین کواجنبی کرنے میں؟
ہمارے ذہین بچےدنیا کےبہترین کالج یورنیورسٹی کے لیے ہیں،جبکہ کند ذہن بچے دینی مدرسےکے لیے قابل سمجھے جاتے ہیں۔
دنیا کی تعلیم سرپر سوار کی جاتی ہے کہ اگر سمجھ نہیں آتی تو پوچھو اور گریڈ کم ہونا زندگی موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
جبکہ قرآن کے سبق کا جواب یہ ہے کہ بچے کو سمجھ نہیں آتی اس کی تو بس رہنےہی دیں،بڑا ہو کر سیکھ لے گا۔
دنیا کی تعلیم پربچے پر لاکھوں کروڑوں خرچ ہوتے ہیں جبکہ قرآن کا مفت کورس کرنےکا بچے کے پاس وقت نہیں۔
بچہ اگرپڑھائی کےساتھ دوسری سرگرمیاں بھی انجام دے رہا ہے تو بہت اچھا ہےذہن تیزہوگا۔ قرآن کی بات آتےہی بوجھ پڑجاتا ہےبچے پر سکول کے ساتھ اتنا نہیں کرسکتا ۔
ہم خود اپنےدنیاوی ذہنیت کےمعیاربچے پر مسلط کر رہے ہیں اور اسلام کے اجنبی ہونے میں حصہ ڈال رہے ہیں۔





































