
منیبہ ارشد
“قرآن وسنت کی دعوت لےکراٹھو اور دنیا پرچھا جاؤ”یہ پیغام صرف کاغذوں کی حد تک محدود نہیں بلکہ جماعتِ اسلامی کےارکان کی تربیت میں قرآن و
سنت کو لازم قراردیاجاتا ہےاور واحد سیاسی جماعت ہےجس میں موروثی سیاست، ذاتی مفادات، فرقہ بندی اورقومیت کا شائبہ تک نہیں۔
اسلام کے نام پر بننے والی مملکت پراللہ کا قانون نافذ کرنےکے لیے سرکرداں واحد جماعتِ اسلامی ہےجس کے ارکان و کارکنان بِلا معاوضہ ہرگلی ہرگھر تک قرآن کا پیغام پہنچانےمیں کوشاں رہتے ہیں۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر جن کا خاصہ ہے۔رمضان میں دورۂ قرآن منعقد کرنا ہویا حج وعمرہ کی تربیتی نشست، ملکی اوربین الاقوامی سطح پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہو، آفات اور عام حالات میں عوام کی امداد ہو، ہمیں ایک ہی نام نظر آتا ہے،جماعتِ اسلامی۔
سوال یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی اتنی مخلص جماعت ہونے کے باوجود،حکومت میں نہیں آسکی۔اس کا جواب ہمیں خود اپنےآپ سے پوچھنا ہے، کیا ہم واقعی ایسی جماعت چاہتے ہیں کہ جو اسلامی قانون نافذ کردے؟ جو ہمارے بچوں تک دینی تعلیم پہنچا دے؟ جوہمارے مردوعورت کی دینی تربیت کردے اور ہمیں یہود ونصاریٰ کے قوانین چھوڑنے پڑجائیں اور ان کے آگے ہم کمتر سمجھے جائیں۔ کیونکہ ہمیں تو ان کےملکوں میں جانا ہے اور ان کے طابع رہنا ہے،بھلا وہاں ہم شریعت کا کیا کریں گے۔یا اگر شریعت نافذ ہی ہوگئی تو سب سے پہلے ہمارے رشوت، ظلم وزیادتی اور ہیرا پھیری کے دھندےبند ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم پر ظلم ہوتا ہے اورانصاف نہیں ملتا توہمیں ضرور اسلامی نظام کی کمی محسوس ہوتی ہےکہ کاش کوئی عمرؓحکمران ہوتا۔۔
سوچئے! ابھی بھی وقت ہے،ترازو پر مہرلگائیےاورپرسکون ہوجائیے آپ نے سچ کا ساتھ دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہےاوردیکھوتم پست ہمت اورغمگین نہ ہو، تم ہی کامیاب ہوگے بشرطیکہ تم سچےمومن ہو (آل عمران، آیت ۱۴۰) اگرتم ایمان اور یقین کی دولت سے مالا مال ہوتو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































