
منیبہ ارشد
رمضان المبارک میں جہاں مسلمان برکتیں اوررحمتیں سمیٹ رہےہوتے ہیں وہاں کچھ ایسی چیزیں بھی معاشرے میں عام ہو گئی ہیں جو نیکیوں کے
تھیلے میں سوراخ کا کام کرتی ہیں۔ جیسے قرآن، سنت اور شعائر اللہ کا مذاق۔ پہلے یہ کام کافرو منافق کا خاصہ تھا مگر اب اس کی ایک شکل مسلمانوں میں بھی آگئی ہے۔ ماہِ مبارک میں ٹی وی، سوشل میڈیا،واٹس ایپ سٹیٹس پر آپکو ایسےجملے ،ڈرامے یامیمز ضرور نظر آئیں گی جن کا موضوع کھلم کھلا سحرو افطاری، روزہ میں صبر، اور تراویح کا مذاق ہوگا۔ مثلاً۔۔۔
کوئی افطاری میں بیس لٹرکی بوتل کو مُنہ لگائے ہوئےہے،کوئی افطاری میں کھا کھا کر دسترخوان پر ہی ڈھیرہے،کوئی تراویح میں لمبی قرأت پرامام کو گھور کرمیم بنا رہا ہے۔ کوئی اپنے دوست کو آزاد شیطان کہہ کرمزے لے رہا ہے۔ کوئی روزے میں ڈرامے کے سیزن مکمل کرنے کو کامیابی کہہ رہا ہےاورحد ہو گئی ایک نے تو انتہائی بھونڈے انداز میں رمضان کا نغمہ تیار کر رکھا ہےجس میں وہ یہ بتاتا ہے کہ مجھےکیا کیا کھانا ہے افطاری میں۔۔۔۔اور جہاں تک جس کا بس چل رہا ہے وہ اس دوڑ میں شامل ہے۔
اگر آپ کا بھی یہی خیال ہےکہ ایسےچھوٹےموٹے مذاق کرنے میں حرج نہیں تو قرآن کھولیےاورسورۃ التوبہ کی آیت 65 پڑھئے،ترجمہ:
“اور اگر تم ان سےدریافت کروتو کہیں گےکہ ہم یونہی بات چیت اور دل لگی کررہےتھے کہہ دو کیا اللہ اور اس کی آیات اوراس کےرسول ہی تمہاری ہنسی کے لیے رہ گئے ہیں۔۔؟”
جی ہاں اس آیت سے صاف ظاہر ہےکہ قرآن و سنت کا مذاق منافقین کا طرزِعمل تھااوریہی قصےبنی اسرائیل کے بھی قرآن میں بیان ہوئے کہ ان کی بربادی کی وجہ ،دین کا مذاق بنا لینا تھا اور کفارِ مکہ کے سردار بھی دوزخ کے فرشتوں کا مذاق اڑاتے کہ ان کو تو (نعوذ باللہ) ہم قابو کر لیں گے۔ ایک مومن اتنی جرأت کر ہی نہیں سکتا کہ اللہ کے حکم کی قدر کو کم کرنے کے لیے اس میں ہنسی مذاق اور لطیفے بنانے لگے۔
رمضان ہو تو تقوٰی اوربھوک کا مذاق، کہ مجھے تو روزہ لگ رہا ہے اوراس پکوان کے بغیر تو میری افطاری نہیں ہوگی۔اس سے یقیناً روزے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ مزید آجائیے تو عید کو بورنگ ڈے کہہ کر مذاق ہوگا۔ مناسک ِحج پر جھوم جھوم کر کنکریاں مار کر وڈیو بنا کر مذاق ہوگا۔ قربانی کے جانوروں پر، گوشت پر مذاق۔ جنت و جہنم اور فرشتوں حتٰی کہ حساب کتاب کے لطیفے۔
یاد رکھئے انسان لطیفے اسی چیز پربناتا ہے جس کو کم ترسمجھتا ہے۔مثلاً کوئی اپنے ماں باپ پر لطیفےنہیں بناتا لیکن اللہ کا دین ہمارے ہنسی مذاق کے لیے رہ گیا ہے۔





































