
منیبہ ارشد
تئیس مارچ انیس سو چالیس کا دن بر صغیرکے مسلمانوں کے لیے اپنی مذہبی شناحت کےساتھ الگ وطن کا وہ خواب لے کر آیا جو طویل انتظار کے بعد جلد ہی شرمندۂ تعبیر
ہونے والا تھا۔
جس طرح مظلوم قوم کو فرعون سے نجات دلوا کر الگ وطن دیا گیا کہ مذہبی وسیاسی شعبوں میں آزادی ہی سے قوم کی الگ پہچان ہوتی ہے۔اسی طرح دو قومی نظریہ نے برصغیر کے مسلمانوں میں اتحاد کی نئی روح پھونک دی تھی۔یقیناً ہرشخص یہی اُمید لگائے ہوئے تھا کہ ایک ایسی اسلامی فلاحی مملکت بنے گی جہاں قانون، معاشرہ اور ہر شعبہ اسلام کے تابع ہوگا، اور یہ ریاست امتِ مسلمہ کے ہر مظلوم کے لیے بھی ایک چراغ کی حیثیت سے چمکے گی۔
اس خواب کا ایک حصہ یقیناً شرمندۂ تعبیر ہوا آزادی ضرور ملی لیکن صرف ظالم اقوام سے ،ظالم نظریات کے آج بھی ہم غلام ہی ہیں۔ دو قومی نظریہ کو صرف لباس اور رہن سہن کی تبدیلی سمجھا گیا۔ سیاست اورقوانین کے شعبے اسلامی نظریات سے خالی ہی رہے۔ رفتہ رفتہ اسےاپنی عسکری طاقت دکھانے کا دن بھی مقرر کر دیا گیا۔ فضا میں چنگھاڑتے بجلی کی تیزی سے گزرنے والے بہترین لڑاکاطیارے، جدید جنگی سازو سامان اور بہترین تربیت یافتہ فوج، یہ سب نمائش کے لیے لایا جاتا ہے تاکہ اس اسلامی ریاست کی دشمن کے دلوں میں دھاک بیٹھ جائے۔
لیکن دشمن کون ہے اس کا تعین کرنا ذرا مشکل ہے،کیا دشمن صرف وہ ہیں جو ہماری زمینی سرحدیں پار کرنا چاہتے ہیں یا وہ بھی دشمن ہیں جنہوں نے انسانی و اخلاقی تمام حدیں پار کر لی ہیں،ہمای مقدس زمین کو خون سے رنگ دیا ہے؟؟ ہر روز دل سوز واقعات کی خبریں آتی ہیں۔ہر مظلوم آنکھ مسلمانوں کی پر ہجوم ریاستوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ہر زبان صلاح الدین ایوبی کو قبر سے پکار رہی ہے کیونکہ زندہ انسانوں میں کسی میں روح باقی نہیں۔
لیکن جرنیل صحابہ اور نامور مجاہدین ِاسلام کے نام پر بنائے جانےوالے میزائیل اور ٹینک،صحابہ کی سیرت و جہاد کے نظریات کےایندھن سے خالی ہی رہے۔
اس قطعۂ زمین میں نہ ریاست مدینہ کا قانون نافذ ہوا نہ امت مسلمہ کے مظلوموں کے لیے عمر خطاب جیسی کوئی للکار ہی سنائی دی۔
آہ۔۔۔ میری مقدس زمین کی حفاظت کے لیے کوئی تیرکمان سے نہ نکلا۔ بھوک سے ڈھانچہ بنے بچوں کو دودھ کے ایک ایک قطرے اور روٹی کے ایک ایک ذرے کے لیے ترسانے والوں کے لیے کوئی تلوار میان سے نہ نکلی۔۔ وہ دشمن جس کی تیاری کے لیے یہ سازو سامان تیار ہوا اسکا ذکر کسی زبان کسی للکار میں بھی نہیں۔وہ واحد ایٹمی اثاثے رکھنے والی ریاست جسے اسلام کا قلعہ اور امت مسلمہ کے مظلوموں کی آواز اور مقدس زمین کا محافظ بننا تھا۔۔ میسر ہی نہیں۔۔۔
کہیں سرمایۂ محفل تھی میری گرم گفتاری
کہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی





































