
منیبہ ارشد
بازارمیں ہر طرف رنگ برنگےخوبصورت نقش ونگار والےپلاسٹک کے برتن اور گھر کےاستعمال کی چیزیں کس کو متوجہ نہیں کرتیں اور قیمت میں بھی
زیادہ نہیں ہوتیں اس لیے تحفے تحائف دینے ہوں، بچوں کو بہلانا ہو یا گھریلو ضرورت ہو، یہی چیزیں خریدی جاتی ہیں اور اپنی ناپائیداری کے باعث بہت تھوڑی ہی عمر پاتی ہیں اور دوبارہ ان کو خریداجاتا ہےاوراسی طرح سلسلہ جاری رہتا ہےاور ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے تحت ان کی فراوانی بھی زیادہ ہوتی جارہی ہے۔
کیا یہ صرف اتنی سی بات ہے یا اس کا کوئی بڑا نقصان بھی ہے؟؟؟
گاڑیوں کا قبرستان اور بڑی بڑی کچراکنڈیاں دیکھ کریہ خیال ضرورآتا ہوگا کہ آخر اتنا کچراآتا کہاں سے ہے۔ ذراسوچئےناقص مواد سےبنی یہ اشیاء جیب پر ہلکی مگر ماحول پر بہت بھاری ہیں اور جیب پر ہلکا ہونا بھی صرف ایک دھوکا ہےکیونکہ ہر دوسرے دن ان کو دوبارہ خریدنا پڑتا ہے۔ کسی نے خوب کہا
”مہنگا روئے ایک بار سستا روئے بار بار”۔
پھر ان رنگ برنگے کارٹون والے برتن، کھلونے اوردیگر اشیاء سے بچوں کے اندر مادیت پرستی پروان چڑھ رہی ہے،گھر میں جتنے بچے اتنی سائیکلیں اور ہر بچے کے الگ الگ ڈیزائن کے برتن کیا قناعت پسندی سکھاتے ہیں؟؟؟
پھر یہ بیماریوں کا سبب بھی ہے۔ کیونکہ یہ پلاسٹک دھونے سے بھی جراثیم سےپوری طرح پاک نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی کچرے میں پھینکنےسے یہ ری سائیکل ہوتا ہے اور آلودگی کا باعث ہےاوراسی طرح غیرمعیاری چیزخریدنا جوایک بارخراب ہوئی پھر مرمت بھی نہیں ہوتی تو کچرے میں جاتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر دینی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو قرآن میں بار بار اس نعمت کی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ زمین کو بچھونا بنایا گیا۔ تو سوچئے کہ ہم اس نعمت کی ناشکری کیسے کر رہے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی برینڈز اس حقیقت کو سمجھ چکی ہیں کہ مادیت پرستی کے پیچھے لگ کر کپڑوں، جوتوں، پرسوں اور دیگر اشیاء کی دوڑ میں بہت سے قدرتی وسائل استعمال ہوتے ہیں۔ اورایک دو بار ان چیزوں کو استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ اس لیے اب وہ استعمال شدہ چیزوں کو خریدنے اور استعمال کرنے کو فروغ دے رہے ہیں اور یہی ہمارے دین کا پیغام بھی ہے کہ سادگی اپنائیں اور فضول خرچی سے بچیں۔
ہماری الماریاں بھرنے والی سوچ اور بلا ضرورت چیزیں خریدنا اور پھینکنا نہ صرف اعمال پر بوجھ ہے بلکہ زمینی کچرے میں بھی اضافہ ہے۔ ایک دفعہ معیاری چیز خریدیں، پرانی چیز کی مرمت ہو سکتی ہے تو کروا لیں۔ اور کیونکہ ہمارے پاس گنجائش ہے اس لیے ہر روز ڈھیروں کھانے بھی پکیں اور قدرتی وسائل جیسے پیٹرول، گیس، بجلی اور پانی وغیرہ بلا ضرورت جتنے چاہیں استعمال کریں، خدارا اس سوچ کو بدلیں۔





































