
عالیہ اقبال
فلوٹیلا کوئی عام جہازوں کا قافلہ نہیں تھا، یہ انسانیت، ہمدردی اور قربانی کا وہ قافلہ تھاجوسمندر کےنیلے پانیوں پر چلتے چلتے تاریخ کے
اوراق پرسنہری حروف سےحوصلے،ہمت اورعزیمت کی مثال رقم کرواکرامر ہوگیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے دیکھا کہ چند لوگ، محض انصاف اور مظلوموں کی مدد کے لیے، اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔یہ چند لوگ ہم جیسے گوشت پوست کے انسان ہی تھے،ان کے بھی خاندان تھے، بچے تھے۔جو ان کی واپسی کی راہ دیکھتے ہوں گے۔
ان جہازوں میں ہتھیار نہیں تھے،بم نہیں تھے،صرف کھانے کےپیکٹ، دوائیں اورزندگی کےوہ خواب تھےجو کسی قیدخانےمیں تڑپتےمعصوم بچے دیکھ رہے تھےمگر طاقت کے نشے میں ڈوبے ظالموں نے سمندر کی آزاد فضا کو بھی خون سےرنگ دیا۔
فلوٹیلا کے ہر مسافر کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا"کیا انسانیت کاجرم یہ ہےکہ ہم بھوکےکو روٹی اور زخمی کو مرہم دینا چاہتے ہیں؟"
وہ رات بہت اہم تھی جب وہ اپنی منزل کے بالکل قریب تھے۔جیسےجیسےمنزل قریب آرہی تھی ۔دھمکیاں اورخطرات بڑھتے جارہےتھےمگر جو سر پر کفن باندھ کر نکلے ہوں ،ان کو بزدل اسرائیلیوں کی دھمکیوں کی کیا پروا ؟سمندر کے پانیوں میں ہلچل ہوئی اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔اسرائیلی فوجی مددگاروں کے جہازوں پر چڑھ آئے۔۔۔گرفتاریاں ہوئیں ۔۔
میں صرف یہ سوچتی ہوں ان کے پیاروں پر کیا گزررہی ہوگی،وہ بےشک سرپرکفن باندھ کرنکلےتھےمگرغازی بن کرلوٹنے کی خواہش بھی تو ہوگی ۔۔۔پیاروں کی آنکھوں میں انتظار کے دیپ جلتے ہوں گے۔۔
بحیثیت مسلمان اورانسان ہمارافرض ہےکہ ہرممکن آواز اٹھائیں ۔۔۔مشتاق احمد اوردوسرے جانبازوں کی رہائی کےلیے حکومتی سطح پر کوشش کی جاۓ ۔انٹر نیشنل میڈیا پر آواز اٹھائیں۔۔اورخدارا ان لوگوں کو اپنے پیاروں کی جگہ رکھ کر سوچیں۔۔دل کانپ نہ اٹھے تو کہیے گا۔





































