
بنت اسماعیل
اسرائیل کےفلسطینی مسلمانوں پرانسانیت سوزمظالم کی حقیقت پوری دنیاپرکھل چکی ہےاوردنیاکا ہرانسانیت نوازاورانصاف پسندانسان ان
مظلوموں کےساتھ کھڑاہوناپسند کررہاہے،امریکہ اوراسرائیل اس ظلم وبربریت میں برابرکےشریک ہیں۔عالمی برادری بشمول اسلامی دنیا کےبیشتر ممالک سیاسی اور معاشی مفادات کی خاطر اسرائیلی اقدامات اورجارحیت کےخلاف قدم اٹھانے سے قاصر ہیں ۔
پوری دنیا کے مسلمان سربراہان خاموش تماشائی بنےہوئےہیں لیکن آج کراچی سےنیویارک تک عوام میں یہ شعوربیدارہوچکاہےکہ کس طرح اسرائیل معصوم فلسطینیوں کاقتل عام کررہاہےاوراب صمود فلوٹیلا پرحملہ،بےگناہ معصوم لوگوں کی گرفتاریاں اسرائیلی جارحیت کامنہ بولتاثبوت ہے۔ ان کشتیوں پرموجود لوگ عام شہری ہیں جوغزہ کےبےکس ومجبورلوگوں کےلیےضروریات زندگی پہنچاناچاہتے تھے،ان کےپاس کوئی اسلحہ نہیں۔ان نہتے لوگوں پرحملہ ظاہرکرتاہےکہ اسرائیل اندر سےکس قدرخوفزدہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے باقی مسلمانوں کا کیا فرض بنتا ہے؟
حدیث مبارکہ ہے
"مسلمان مسلمان کابھائی ہے،اس پرخود ظلم کرتا ہےنہ اسےبے یارومددگارچھوڑتاہےاورنہ اسےحقیرجانتاہے"
آج فلسطین کا ہرمسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کو مدد کے لیے پکار رہاہےلیکن ہم شاید بے حس ہوچکے ہیں یاشاید ہمارے دل پتھر کےہوگئےہیں۔ ہم اپنی دنیا میں مگن ہیں۔اپنےدسترخوانوں کی سجاوٹوں میں لگےہوئےہیں،اُدھر معصوم بچےایک روٹی کے ٹکڑے کو بھی ترس رہے ہیں۔اللہ نے ہمیں بے شمارنعمتوں سےنوازاہےلیکن ہم پھربھی بخیل ہیں۔ایسا نہیں کہ ہم خرچ نہیں کرتے لیکن ہم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے،وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنےبےجا اخراجات کو ختم کریں ۔ اللہ کی رضامندی حاصل کرنےکےلیے فلسطینی مسلمانوں کی امداد کرنےاور جہاد کوفروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اپنےمسلمان بھائیوں کی تکلیف کودل سےمحسوس کریں۔ورنہ قیامت کےدن اللہ کےسامنےہمارا کوئی عذرابل قبول نہ ہوگا۔





































