
بنت اسماعیل
کراچی کے گل پلازہ کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس ظلم کا بیان کس منہ سے کریں۔ ظالم اپنے ظلم
کو برقرار رکھنے کے لیے بڑے بڑے روپ دھارتا ہے۔ کبھی مسیحائی کا روپ، کبھی راہنمائی کا روپ۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔اس سانحہ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے افسوس کا اظہار کیا اور انہیں مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ اس ظلم کی چکی میں کون پسا۔۔۔۔ سفید پوش طبقہ۔۔۔۔ معصوم شہری۔۔۔۔بس ظلم ہو گیا۔۔۔۔۔
کچھ وقت تک شور اٹھے گا۔ خبریں سوشل میڈیا کی زینت بنیں گی اور پھر مظلوم ہمیشہ کے لیے خاموش رہ جائے گا۔ مجبوریوں کے حصار میں جکڑے ہوئے عوام پر اطاعتوں کی یلغار ہے۔ حکومت کی اطاعت۔۔۔۔ اعلیٰ حکام کی اطاعت۔۔۔۔فرسودہ نظام کی اطاعت۔۔۔۔ عوام جائیں تو کہاں جائیں ۔
آگ لگتی ہے لوگ زندہ جل جاتے ہیں۔۔۔۔شور اٹھتا ہے۔۔۔۔ پھر اک خاموشی۔۔۔۔۔ ہم بھی اسی ملک کے باسی ہیں۔ خدانہ کرے کہ ایسا ہو۔۔۔۔۔۔لیکن ایسا ہو بھی تو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔سوچیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ بس یہی تو بے بسی ہے کہ وجوہات و نتائج سے باخبر انسان بھی اس سے بےخبر رہتا ہے۔۔۔۔۔اٹھو اور اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر اس نظام کو بدل ڈالو۔۔۔۔۔حق والے کا حق ادا کرو بلکہ اس سے بھی ما سوا دو۔۔۔۔بس اتنے سے عمل سے ظلم ختم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ





































