
بنت اسماعیل
قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ کی معصوم آبادی پرظلم وستم کی انتہا ہوچکی ہےلیکن ہم بحیثیت مسلمان اس قتل عام کو دیکھنے کے عادی ہو
چکے ہیں۔شاید ہم بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بن چکے ہیں کہ دنیاوی طاغوت آتے ہیں ،ایک ایک کر کے بکری کو لے جاتے ہیں اور باقی سب خاموش تماشائی بنے خود کو تسلی دیتے ہیں کہ ہم تو خیریت سے ہیں حالانکہ ان کی کسی بھی وقت باری آ جائے گی۔
آج غیر مسلم ممالک کی عوام بھی ان مظالم سےبخوبی آگاہ ہوچکی ہے لیکن ان کےارباب اختیارامت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کرتے ہیں۔ شاید ہم بنی اسرائیل کی طرح یہی سمجھنے لگے ہیں کہ ہم اللہ کے لاڈلے ہیں ۔اس لیےعیش و آرام میں ہیں اور خدانخواستہ اہل غزہ سے اللہ ناراض ہے۔ اس لیے وہ اتنی تکلیف میں ہیں لیکن حقیقتاایسا نہیں ۔ اللہ ان سے ناراض نہیں ۔ان کے صبر کی آزمائش کر رہا ہے۔ وہ کلمہ حق کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ اس طرح وہ قرب الہٰی کی منزلیں طے کرتے چلے جا رہے ہیں اور ہم اپنی آسائشوں میں ڈوبے ہوئے اللہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔شاید اللہ اپنی حجت تمام کر رہا ہے ،کسی بھی وقت ڈور کھینچ دی جائے گی۔
ہمارا ایمان اپنی کمزوری کی انتہا کو پہنچ گیا ہےاورجہاد توبہت دور کی بات ہو گئی ہے۔ہم بھی بنی اسرائیل کی طرح موت سے خوفزدہ رہنے لگے ہیں ۔
اگر ہمارے اندر قوت بازو بھی نہ ہواورقوت ایمان بھی نہ ہوتوکیاہوگا ؟۔۔۔۔۔۔اگر ہم آپس میں مہربان بھی نہ ہوں تو دشمن کے مقابلے میں کیسے متحد ہوں گے؟۔۔۔۔۔ اس حالت میں ہم کہاں کے مسلمان رہیں گے؟۔۔۔۔۔ کیاایسی صورت میں اللہ ہم سے راضی ہوگا؟۔۔۔۔۔ کیا ہماری نمازیں، ہمارے حج ہماری بخشش کا سبب بن جائیں گی؟ جبکہ اُدھر فلسطین جل رہا ہےاورہم کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔ اگر دین خوشنودی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خوشنودی خدا کا نام ہو اور خدا اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض ہوئے تو ہم کدھر جائیں گے؟۔۔۔ اس ساری صورتحال میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟۔۔۔۔ اگر ہم اسی طرح اپنے اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھے رہے تو اللہ ہمیں بھی ظالموں کی صف میں کھڑا کر دے گا۔ دشمن امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ چکا ہے ۔کیا اس صورت میں اللہ کے حضور ہماری معذرت قبول ہو گی ؟۔۔۔۔جہاد کا وقت تو آچکا ہے۔
اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ اکبر اللہ اکبر
ہمیں اللہ نے بے شمار صلاحیتیں دی ہیں۔ اب وقت آگیاہےکہ ہم ان کواستعمال کریں اوردشمن اسلام کو منہ توڑجواب دیں۔سب سے پہلے ہمیں اپنی آسائشیں اور ضروریات زندگی محدود کرناہوں گی۔ تاکہ ان سےبچنےوالےپیسےکوجہادکےلیےاستعمال کیاجائے۔اسرائیل کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے اسے شدید معاشی دھچکا لگانا ہوگا۔اپنے بچوں کی ذہن سازی کریں تاکہ ان کے دلوں میں بھی امت کا درد پیدا ہو۔ جہاد کا اور خدمت کا جذبہ ابھرے۔
ہمیں اپنے آپس کے تمام اختلافات ختم کرنےہوگے،ہم صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ کوئی علاقائی یا جماعتی تفریق نہیں۔ بحیثیت مسلمان متحد ہونا ہوگا ۔قران و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا ،اگر ہم آپس میں متحد ہونے کی بجائے اسلام دشمنوں سے اتحاد کریں گےتو اللہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا ۔سابق سینٹر مشتاق احمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وہ ہمارے قومی ہیرو بن چکے ہیں ۔گمانوں کی تاریک راتوں میں یقین کا چراغ ہیں۔ یقین کے ساتھ اللہ ہے اور گمان کے ساتھ شیطان ۔ اللہ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
پانچ اکتوبر کو غزہ ملین مارچ ہے ہمیں اپنی آسائشیں چھوڑ کر گھروں سے نکلنا ہے ۔حکمرانوں کو بتانا ہے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں پھر پاکستانی۔ اس کے علاوہ ہماری کوئی پہچان نہیں ۔ہمیں حکمرانوں پر زور ڈالنا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اسرائیل کی فلسطین کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کو روکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے گڑگڑا کے دعا کریں کہ اللہ ہمارے دلوں کو نور ایمان عطا فرمائے۔ دعا مومن کا اختیار ہے۔ ہمیں صدق دل سے فلسطینی مسلمانوں کی مدد اور ظالموں کے جبرکو روکنے کے لیے دعائیں کرنی چاہیئں ،اس کے بعد اللہ کی نصرت آئے گی ۔ان شاءاللہ
موت تو آنی ہے خوبصورت گھروں میں چھپ کے بھی اور میدان جنگ میں بھی لیکن دونوں صورتوں میں اللہ کے ہاں استقبال الگ الگ ہے ۔ایک میں اللہ کی ناراضی اور دوسرے میں اللہ کی خوشنودی۔ تو کیوں ڈریں دنیا کو چھوڑنے سے ۔ہم اس حال میں اپنے رب سے ملاقات کریں کہ وہ ہم سے راضی اور ہم اس کی رضا سے خوش۔





































