
بنت اسماعیل
دل و جاں میں سانسوں کی پرتیں الٹتا ہوا دسمبر آیا اور چلا گیا۔ دکھ اور سکھ کی یادیں لئے
کتنی خاموشی سے آیا اور دبے پاؤں لوٹ گیا اور میں دھوپ کی ننھی ننھی کرنوں میں بیٹھی سوچتی رہی کہ گزرتے برسوں میں کیا کھویا، کیا پایا۔ کتنے لوگ آئے اور کتنے چلے گئے۔ اپنی یادوں کی پرچھائیاں دل کی زمین پر نقش کر گئے۔ جانے والوں کے غم کا کیا ذکر کریں۔ کہتے ہیں پرانی چوٹ اکثر سردیوں میں تکلیف دیتی ہے۔ دل کے زخموں کا بھی یہی حال ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ابھی ابھی دل کی وادی میں طوفان آیا ہے اور ساری ندیاں آنکھوں سے بہنے لگتی ہیں۔
سب بند ٹوٹنے لگتے ہیں جو سارا سال بڑی کوششوں سے باندھے گئے تھے۔ ہاتھوں سے وقت ریت کی مانند بہتا جا رہا ہے۔ غم کی یاد ایک تازہ غم دے جاتی ہے۔ عجب حال ہے کہ خوشی کی یاد بھی پریشان اور غم کی یاد بھی پریشان۔ دن۔۔۔مہینے۔۔۔سال۔۔۔۔۔۔ جیسے موتیوں کی مالا ٹوٹ جاتی ہے۔ ایک ایک موتی ہمارے سامنے بکھرتا چلا جاتا ہے۔ سارے دکھ پھر سے جوان ہوئے جاتے ہیں۔ دسمبر پھر سے گزرتا جاتا ہے۔
نیا سال آنے کو ہے۔ پھر دنیا اپنے بھنور میں لینے کو تیار ہے۔ پھر سے اک دوڑ شروع ہوگی۔ مصروفیت کی دوڑ۔۔۔۔۔۔ دن اور رات، مہینے اور پھر سال کا اختتام۔۔۔۔۔۔۔ دسمبر۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر یہی سوچ کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔گردش شام و سحر میں قید ہم لوگ اگر خود کو اس طاقت کے سپرد کر دیں۔ جس نے یہ سب تخلیق کیا ہے تو پھر ہر طرح کے خوف و رنج سے آزاد ہو سکتے ہیں۔ہم دنیا کی دوڑ سے باہر نکل کر خالق کے قرب کے دائرے میں آ جائیں تو کوئی دکھ دکھ نہیں رہتا۔ اگر اپنی فنا کو تسلیم کر لیں تو سارے دکھ مٹ جاتےہیں۔ یہاں نہ کچھ کھونا ہے نہ پانا ہے۔ یہاں تو صرف آنا ہے اور جانا ہے۔پھر دکھ کس بات کا۔۔۔۔۔۔





































