
بنت اسماعیل
میرے لعل! میں تجھے صبح و شام یاد کرتی ہوں۔ تیری خوشبو نے کبھی میری دہلیزکو چھوڑا ہی نہیں۔ یہ ہوا جب میرے آنچل کو
کبھی چھو کر گزرتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ تو نے مجھے ماں کہہ کر روکا ہے۔ تمہارے ہاتھوں کے لگے پودے جسے تم ہر روز شام میں پانی دیتے تھے۔ اب تن آور درخت بن چکے ہیں۔ میں روزانہ شام کو اپنے آنسوؤں سے انہیں تر کرتی ہوں۔صبح وشام چڑیاں لان میں آتی ہیں۔ تم جب اسکول جانے کے لیے نکلتے تھے تو وہ کس طرح چہچہاتی تھیں ۔تم جب اسکول جانے کے لیے نکلتے تھے تو کس طرح چہچہاتی تھیں اور تم بھی ان کے پیچھے بھاگتے تھے۔ وہ آج بھی اسی طرح گاتی ہیں مگر ان کی آواز میں وہ خوشی نہیں۔ سوگ سا لگتا ہے، میں جب تنہا ہوتی ہوں بے پناہ روتی ہوں لیکن جب تمہارے بابا اور بہن آتے ہیں تو چہرے پر جھوٹی خوشی دکھانی پڑتی ہے۔ ان کی آنکھیں بھی غم سے تر رہتی ہیں مگر شاید میرے لیے مسکراتے ہیں۔
رات کو اکثر تمہاری آواز سنائی دیتی ہے تو میں ہڑبڑا کر اٹھ جاتی ہوں۔ اکثر خواب میں دیکھتی ہوں کہ ان درندوں نے جب تم پر گولی چلائی ہوگی تو تم نے کس طرح تڑپ کر مجھے پکارا ہوگا۔ وہ تڑپتی ہوئی آواز مجھے روزانہ رات کو اٹھا دیتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ تم کہیں قریب ہو۔
آج تم سے بچھڑے ہوئے 11 سال گزر گئے لیکن دل کی تڑپ ختم نہیں ہوتی۔ خدا کبھی والدین کو اولاد کا دکھ نہ دے۔یہ تکلیف یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ وہ احساس ہے جسے لفظوں میں بیان کرناممکن ہی نہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب تم سکول کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ اس دن تم بہت خوش لگ رہے تھے۔ تیار ہو کر دوبارہ کمرے میں ڈریسنگ کے پاس گئے اور دوبارہ بالوں میں برش کرنے لگے۔ میں نے پوچھا۔"بیٹا دیر ہو گئی ہے دوبارہ بال کیوں بنا رہے ہو"۔ تم نے مسکرا کر کہا۔ "ماما میں کیسا لگ رہا ہوں"۔ اس دن تمہاری آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی، میں نے بولا۔"میرا بیٹا بہت خوبصورت لگ رہا ہے"۔ یہ سن کر تم ہنستے ہوئے باہر بھاگے کیونکہ وین آگئی تھی۔ میں بھی جلدی سے پیچھے گئی۔ ایک عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ تم نے بیگ وین میں رکھا اور دوبارہ پلٹ کر گیٹ پر آ گئے اور فوراً آ کے مجھے گلے لگا کر کہا۔" ماما میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں"۔
" میں بھی بیٹا"۔
میں نے جواب دیا اور تم نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
نجانے کیوں مجھے ایک گھبراہٹ سی ہونے لگی۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ تم سے آخری ملاقات تھی۔ بار بار آنکھوں میں آنسو آرہے تھے۔ جس طرح تم نے مجھے پلٹ کر گلے لگایا تھا۔ ایسے جیسے کوئی الوداع کہہ رہا ہو۔ میں بار بار اپنے دل کے وسوسوں کو جھٹک رہی تھی۔ پھر گھر کے کاموں کی مصروفیت میں کب گیارہ بجے، پتہ ہی نہیں چلا۔ میں چائے کا کپ لے کر ٹی وی کے *سامنے بیٹھ گئی ۔خبریں سن کر ہوش اڑ گیا کہ تمہارے اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا۔ تمہارے بابا کو فون کیا۔ وہ فوراً دکان سے نکلے اور سکول پہنچ گئے ۔ گھبراہٹ اور پریشانی سے کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔ وہ انتظار کی گھڑیاں تھیں یا کوئی قیامت تھی ۔آخر وہ گھڑی آگئی ۔گھر کے دروازے پر ایمبولنس آکے رکی ۔جب تمہارے بابا تمہیں خون میں لت پت گھر لے کر آئے تو دل جیسے پھٹ گیا تھا۔ایسا لگا جیسے آسمان ٹوٹ کر گر گیا ہو۔اک قیامت تھی جس نے میرے گھر کی راہ دیکھ لی تھی ۔
اتنا عرصہ گزر گیا لیکن یہ زخم اسی طرح تازہ ہے۔ میں روز صبح خود کو سمیٹتی ہوں اور روزانہ رات میں بکھر جاتی ہوں۔ ان شب و روز کا ایک ایک لمحہ کس کرب میں گزرا، بیان نہیں کر سکتی لیکن اس بات کی خوشی ہے کہ زندگی کے گیارہ سال گزر گئے۔ تم سے جدائی کی مدت کم ہو رہی ہے اور ملاقات قریب آرہی ہے ۔
تمہاری بہن کا کیا بتاؤں جس سے تم ہر وقت نوک جھونک کرتے رہتے تھے۔ تمہاری بعد نیم پاگل ہو گئی تھی لیکن اللہ کا بڑا کرم ہوا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو سنبھالا ہے اور ہمیں بھی حوصلہ دیتی ہے اس کی میڈیکل کی پڑھائی مکمل ہو گئی ہے اور اب ہاؤس جاب کر رہی ہے بڑی پرعزم ہے۔ وہ کہتی ہے کہ وہ اس ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کرے گی۔ اس مقصد کواس نے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ہے۔ وہ ایک ڈاکٹر بن کر ایسے اقدامات کرنا چاہتی ہیں ۔جس سے آئندہ کبھی کسی کے گھر پر قیامت نہ آئے ۔
میرے لخت جگر !تم سے جدائی کا دکھ اپنی جگہ، لیکن مجھے اس بات کا فخر ہے کہ میں ایک شہیدکی ماں ہوں ۔میرا بیٹا جنت کی وادیٹ میں خوش و خرم ہو گااور جب میں ایک دن تم سے ملوں گی تو تمہیں شاد و آباد دیکھ کر اپنے سارے غم بھول جاؤں گی۔ وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے۔





































