
بنت اسماعیل
کشمیر کا نام سنتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنت کی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگی ہوں۔ برف پوش وادیاں ،چنار کے خوبصورت
درخت جو کشمیر کی وادی کی انفرادیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، ہر طرف سکون ہی سکون ہے۔ کہیں دور کسی جھرنے کی ہلکی ہلکی آواز جیسےکوئی ترنم کانوں میں رس کھول رہا ہو۔ یوں لگتا ہے گویا خدا نے جنت کا ایک ٹکڑا زمین پر اتار دیا ہو۔ یہ اپنے حسن کی وجہ سے دنیا کا منفرد خطہ ہے۔
مغربی سیاح اس کو "مشرق کی جنت" قرار دیتے ہیں۔ مغل بادشاہ جہانگیر نے اسے دیکھ کر کہا تھا۔
"گر فردوس بروئے زمیں است
ہمیں است ، ہمیں است و ہمیں است
(اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ یہی ہے،یہی ہے اور یہی ہے) یہ واقعی کسی پرستان سے کم نہیں لیکن یہ کیا؟ ان خوبصورت اور براق وادیوں میں لال رنگ کیوں بھر دیا گیا؟ گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے دلوں اور ذہنوں کا سکون غارت کر دیا۔ دور سے عورتوں کے رونے اور بچوں کے بلکنے کی آوازیں دل کوجھنجوڑ دیتی ہیں۔
آہ! خوبصورت نوجوان روز لقمہ اجل بن رہے ہیں۔حسین وادی کا سکون چھین لیا گیا۔ مجبور کشمیریوں پر غیر انسانی اور غیر اخلاقی دونوں طرح کے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ کشمیر کے موجودہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ وہاں لوگوں نے اتنی دہشت گردی دیکھی ہےکہ وہ ہر خوف سے بےخوف ہو چکے ہیں اور آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔
ہم لوگ ایک طویل عرصے سےکہتے آ رہے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے لیکن صرف کہنے سے بات نہیں بنتی۔ کشمیر پکار پکار کر ہمیں یہ احساس دلارہا ہے کہ کیا ہم واقعی حقیقت پسند قوم ہیں؟ کھوکھلے نعروں اورصرف یوم یکجہتی کشمیر منانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مضبوط، باکردار اور باصلاحیت قیادت کے تحت ٹھوس اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
یا اللہ! ہمیں کوئی صاحبِ یقین راہنما عطا فرما جس کی قیادت میں ہم برسوں سےجکڑی ہوئی اس جنت نظیر وادی کو آزاد کروانے کے لیے سنجیدہ اور مؤثرعملی جدوجہد کر سکیں۔





































