
بنت اسماعیل
کراچی پاکستانیوں کا دل ہے۔ صنعتی شہر کراچی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی حیثیت رکھتا ہے۔پورے پاکستان سے لوگ یہاں
روزگار کے لئے آتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ لوگ تہذیب سیکھنے کراچی آتے تھے۔ لسانی اختلافات، عصبیت اور حکومت کی نااہلی نے اسے برباد کر دیا۔ روشنیوں کے اس شہر کو سوچی سمجھی ا سکیم کے تحت تاریکیوں میں گھسیٹا جا رہا ہے۔
روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی حکومت نے عوام کو یہ سب تو نہ دیا البتہ بجلی، پانی، گیس سے بھی محروم کر دیا اور عوام کو آلودگی ،ٹریفک غربت، جرائم اور دہشت گردی تحفے میں دی دیے۔ عوام ایک عرصے سے یہ برداشت کر رہی ہے۔ مائیں ایک سہمے ہوئے خوف سے اپنے بچوں کو رخصت کرتی ہیں، جب شہر کے حالات کا خیال آتا ہے تو جیسے سانس حلق میں اٹک جاتی ہے۔شہر میں جگہ جگہ ہونے والے حادثات نے شہریوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ ابھی حالیہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے چشم زدن میں کتنے گھروں کے چراغ گل کر دیے۔ اس آگ کا دھواں آج بھی شہر کی فضا میں موجود ہے۔ سسکتی آہیں اور دلخراش چیخیں آج بھی سنائی دیتی ہیں۔
اب بہت ہو چکا۔۔۔۔ کراچی کی شہ رگ پر خنجر رکھنے والو! سن لو۔۔۔۔ اب یہ ظلم اور نہیں چلے گا۔ ہم تم سے زندگی کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ ہم اپنا حق لے کر رہیں گے۔ ہم کراچی کو خطہ امن بنائیں گے۔ ہم اندیشوں کی چادر اتار پھینکیں گےاور یقین، اتحاد اور ایمان کی قوت سے اس مظلوم شہر کو اور اس کے باسیوں کو ان کے جینے کا حق دلائیں گے۔





































