
بنت اسماعیل
"اے اللہ اگر آج اہل اسلام کا یہ مٹھی بھر گروہ ہلاک ہو گیا تو روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا"
چہرہ مبارک آنسوؤں سے تر ہے، دست مبارک بارگاہ الہی میں اٹھے ہوئے ہیں، چادر مبارک کندھوں سے گرتی جا رہی ہے اور زبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مسلسل دعائیں جاری ہیں۔
سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چادر درست کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں۔
"اللہ کے رسول بس کر دیجئے آپ نے بڑی انکساری سے دعائیں مانگ لی ہیں جو یقیناً قبول ہوں گی۔"
اللہ نے اپنے محبوب کی دعا قبول فرمائی اور فرشتوں کو وحی کی کہ
"میں تمہارے ساتھ ہوں۔تم اہل ایمان کے قدم جماؤ۔ میں کافروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا۔"
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی ہے۔
"میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے اور پیچھے سے آئیں گے۔"
سامنے بدر کا میدان ہے۔ایک طرف تین سو تیرہ بے سر و سامان اہل ایمان اور دوسری طرف تین گنا زیادہ شیطانی لشکر مد مقابل ہے۔ ان نہتے مسلمانوں کے پاس بظاہر اسباب کچھ بھی نہیں ہیں لیکن قوت ایمانی کی وجہ سے دلوں میں ذرا برابر بھی لغزش نہیں ہے۔ ان سب کا مقصد اسلام کو پوری دنیا میں پھیلانا ہے اوردلوں میں ایک ہی تمنا ہے۔ زندہ رہے تو مجاہد بن کر جیئں، مر جائیں تو شہید کہلائیں۔ اتنے میں عظیم الشان قائد اور سپہ سالار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرکز قیادت سے نکل کر میدان جنگ میں تشریف لاتے ہیں۔ اپنے محبوب قائد کو دیکھ کر صحابہ کرام رضواںن علیھم میں قوت ایمانی اپنے عروج پر آ جاتی ہے۔ وہ کلمہ حق کو بلند کرنے کے لیے کافروں پر چڑھ دوڑے اور پھر کائنات نے دیکھا کہ کس طرح بدر کے مقام پر مٹھی بھر مسلمانوں نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر باطل کی مادی قوتوں کو ختم کر ڈالا۔
فتح بدر نے اسلام کو نصرت بخشی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف واعظ نہ تھے بلکہ اپنے حق پرستوں کی جانوں کی شمشیر سے بھی حفاظت کر سکتے تھے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح تاریخ اسلام میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ لڑائی واقعی میں شوکت اسلام کا سنگ بنیاد تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اس میں شریک ہوئے وہ سارے کے سارے جنتی قرار دیے گئے۔
یہ اسلام کے ابتدائی دنوں کی بات ہے لیکن آج کے دور میں فلسطین کے موجودہ حالات بدر کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ فلسطینی بھی محدود وسائل کے باوجودایک سفاک لشکر کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا جذبہ، ان کا یقین، ان کا ایمان ہمیں بدر کی یاد دلاتا ہے۔ یقین کے ساتھ اللہ کی تائید ہوتی ہے اور گمان کے ہمراہ شیطان ہوتا ہے۔ اللہ ہمارے اندر بھی وہی یقین اور ایمان کی قوت پیدا فرمائے کہ ہم مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے کھڑے ہو سکیں ۔





































