
(حق کی لازوال کامیابی)
بنت اسماعیل
آئیے آج ہم صدیوں پہلے 20 رمضان 8 ہجری کے عظیم الشان دن کی طرف چلتے ہیں جو اسلامی تاریخ کا ایک روشن اور یادگار باب ہے۔ 10 ہزار صحابہ
کرام رضوان علیہم کا لشکر فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوا چاہتا ہے۔ ان کے ساتھ فخر کائنات، رحمت اللعالمین اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہیں۔ سر مبارک انتہائی عاجزی سے جھکا ہوا ہے اور شکر الہی میں آپ کی پیشانی اونٹنی کے کجاوے کے قریب ہے۔ اتنے بڑے لشکر کے سربراہ کی انکساری پر قربان جائیے۔ کہیں کوئی فاتحانہ غرور کا شائبہ تک دکھائی نہیں دیتا۔
دشمن اسلام ابو سفیان جس کے خون کے تمام مسلمان پیاسے ہیں۔ اسے کچھ ہی دن پہلے رحمت دو عالم معاف فرما دیتے ہیں۔ تاریخ عالم میں یہ اپنی قسم کی واحد مثال ہے کہ اتنے بڑے دشمن کو کمال فراخ دلی اور عالی حوصلے سے معاف کر دیا جاتا ہے۔ اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر ابو سفیان ایمان لے آتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہو کر فرماتے ہیں کہ مکہ کا جو شخص ابوسفیان یا حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام کے گھر میں پناہ لے گا، یا اپنے گھر کا دروازہ بند کر دے گا، یا بیت اللہ میں داخل ہو جائے گا، ان سب کو امان ہے۔ اتنی بڑی معافی کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہ کون سے مظالم نہیں تھے جو قریش مکہ نے مجبور و بے کس مسلمانوں پر نہ ڈھائے تھے۔ انہیں گرم ریتوں اور آگ کے انگاروں پر لٹایا گیا۔ کتنے صحابہ کرام رضوان علیہم کو شہید کر دیا گیا۔ انہوں نے ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو ستانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔
"آج بدلے کا دن ہے۔ آج کا دن کشت و خون کا دن ہے"
لیکن امن کے حامی اور محسن انسانیت فرما رہے ہیں۔
"نہیں نہیں آج تو اللہ تعالیٰ کعبے کی عظمت کو بڑھائے گا۔ آج تو رحمت کا دن ہے۔"
معمولی سی جھڑپ کے علاوہ کوئی مزاحمت نہیں کرتا۔ اب سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر حجر اسود کے پاس تشریف لاتے ہیں اور اسے بوسہ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔ بیت اللہ میں ہر جگہ بت ہی بت رکھے ہوئے ہیں۔ جن کی تعداد 360 ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کمان یاچھڑی سے بتوں کو مارتے جا رہے ہیں۔ جس سے وہ منہ کے بل گر رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زبان اقدس سے یہ آیت تلاوت فرما رہے ہیں ۔
'حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے والی چیز ہے۔"
(بنی اسرائیل ایت 81)
اب خاتم النبیین خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔ جب آپ مجمع کی طرف دیکھتے ہیں تو تمام جباران قریش نظریں جھکائے، اپنے اعمال پر شرمندہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام معافی کا اعلان فرماتے ہیں۔ آپ کی فیاضی سے متاثر ہو کر لوگ جوق در جوق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کر رہے ہیں۔
اسلامی لشکر کا مکہ میں فاتحانہ داخلہ اور غیر مسلم دشمنوں سے اتنا فیاضانہ سلوک دنیا کی تاریخ میں ایک نادر مثال ہے۔ اتنی عظیم فتح کا تقریباً بغیر خونریزی کے حاصل ہو جانا، آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ فتح مکہ ہمیں سکھاتا ہے کہ آج کے دور کے تنازعات کا حل انتقام نہیں بلکہ عفوو درگزر ہے۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا خون ناحق بہایا جا رہا ہے اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ایسے حالات میں ہمیں فتح مکہ کے عظیم واقعےسے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں مظلوم مسلمانوں کے ساتھ تعاون اور یکجہتی اختیار کرنے اور باہمی اختلافات کو ختم کر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔





































