
بنت اسماعیل
"کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں"
موقع ہے غزوہ خیبر کا، فضا سنجیدہ ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میدان جنگ میں انتظار اور ولولے کے ساتھ صف آرا ہیں اور ارشاد فرما رہے ہیں سرور کائنات، محبوب خدا، رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے دلوں میں تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ سعادت ان کو نصیب ہو جائے۔ اگلے دن صبح کا سورج حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے بڑی برکتوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم علم اسلام ان کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔ یہ نڈر اور بہادر نوجوان آگے بڑھتے ہیں اور یہودی پہلوان مرحب جو بے انتہا طاقتور ہے, اس کا قلع قمع کر دیتے ہیں اور غزوہ خیبر میں اپنی شجاعت کی تاریخ رقم کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے "اسد اللہ" کا لقب پاتے ہیں ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ تربیت پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کا روزانہ دیدار فرمایا۔ وہ ہمیشہ مشکل وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست و بازو بنے رہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا اعلان فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسی وقت ایمان لے آئے اگرچہ وہ اس وقت بہت کم عمر تھے۔ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اسلام کے اعلان کی عمر اور علی رضی اللہ عنہ کے ایمان کی عمر بالکل برابر ہے۔
ہجرت مدینہ کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، بڑی بہادری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پرسو گئے تاکہ قریش مکہ کو ان کی امانتیں واپس کر سکیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے 2 ہجری میں ہوا اور ان کے بطن سے آپ کی اولاد میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ، حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں انہوں نے تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شرکت فرمائی۔ غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ نے قریش کے کئی بڑے سرداروں کو قتل کیا۔ غزوہ احد میں جب کچھ مسلمان منتشر ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں ڈٹ گئے۔ حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا تھا۔ غزوہ خندق میں بھی بےمثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے کفار کے نامور اور طاقتور پہلوان عمرو بن عبدود کو مقابلے میں شکست دی۔ اس کی ہلاکت سے مشرکین میں کھلبلی مچ گئی اور آخر کار وہ سخت آندھی اور غیبی مدد کی وجہ سے محاصرہ ختم کر کے بھاگ کھڑے ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کو ان الفاظ میں سراہا ۔
"خندق کے دن علی کی ایک ضرب (پوری امت کے) ثقلین (جن و انس) کی عبادت سے بہتر ہے۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد 35 ہجری میں خلافت سنبھالی اور تقریبا 5 سال تک حکمرانی کی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں امت مسلمہ کو شدید فتنوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں جنگ صفین بھی شامل ہیں جس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی فوج کے ایک حصے نے بغاوت کر دی۔ اپنے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ نے دارالحکومت مدینہ سے کوفہ منتقل کر دیا تاکہ مدینہ کے امن کو برقرار رکھا جا سکے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ انصاف اور اتحاد کو فوقیت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ بے پناہ حکمت و شجاعت کے مالک تھے۔
ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
"میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔"
19 رمضان 40 ہجری کو ایک خارجی شخص عبدالرحمن بن ملجم المرادی نے مسجد کوفہ میں فجر کی نماز کے وقت زہرآلود تلوار سے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کیاجس سے آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر بہت گہرا زخم آیا لیکن صبر و توکل علی اللہ کی انتہا دیکھیے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی زبان پاک سے یہ الفاظ نکلے۔
"رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔"اور جب قاتل کو پکڑ کر آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا تو عدل و حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا۔
" اس قیدی کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر میں زندہ رہا تو میں خود اس کے بارے میں فیصلہ کروں گا اور اگر میں وفات پاجاؤں تو اسے صرف ایک ہی ضرب لگانا۔ اس پر زیادتی نہ کرنا۔" یہ بلند اخلاق و کردار رحمت کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ تربیت کا نتیجہ تھا۔21 رمضان 40 ہجری کو آپ رضی اللہ عنہ اسی زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
علم و حکمت کا سنہرا باب بند ہو گیا لیکن ان کے اقوال کی روشنی آج بھی انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔ آج کے فتنوں کے دور میں ہم ان کی زندگی سے راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ سادگی و تقویٰ اختیار کیا اور حق کے لیے ڈٹ گئے۔ انہوں نے عدل و انصاف قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ دین کی حفاظت کے لیے کس طرح صبر، استقامت اور بہادری سے کام لینا چاہئے۔
آج جب دین اسلام مشکل وقت میں ہے تو پوری امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنے انفرادی معاملات کو پس پشت ڈال کر صرف اللہ کے دین کو نافذ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بھی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جیسا ایمان، جوش اور جذبہ عطا فرمائے تاکہ ہم دین اسلام کی حفاظت اور اس کے سر بلندی کے لیے ثابت قدم رہ سکیں۔





































