
بنت اسماعیل
دل کی زمین پر اس عظیم مہمان نے قدم رکھا تو روح خوشی سے جھوم اٹھی۔ زندگی میں خوشیوں
کے رنگ بکھرنے لگے کیونکہ خوشیوں اور برکتوں والا مہینہ رمضان المبارک آ پہنچا۔ ہر طرف رحمت ہی رحمت پھیل گئی۔ فضا میں سکون اور روحانیت کی خوشبو بکھر گئی۔ آنکھوں سے اشکوں کی چھم چھم بارش برسنے لگی تو دل کی سرزمین میں نمی پیدا ہو گئی اور اسی نم زمین میں تقویٰ کا ننھا سا بیچ آہستہ آہستہ نمو پانے لگا۔ جذبہ عمل، شوق عبادت اور محبت الہی کی روشنی میں یہ ننھا سا بیج پروان چڑھنے لگا اور ایمان خوبصورت شاخ میں بدلنے لگا۔
اب یہ رحمتوں والا مہمان واپس جا رہا ہے۔ آنکھوں سے جدائی کے اشک جاری ہیں۔ خوشیوں کے رنگ اداسیوں میں بدلنے لگے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے سر سے رحمتوں کا سائباں سرکتاجا رہا ہے۔ دل میں جدائی کا کرب محسوس ہو رہا ہے پھر وہی دنیا، وہی شب و روز ، وہی دنیاوی مشغولیات اور وہی نفسا نفسی کی فضا سامنے کھڑی ہے۔
تقویٰ کی کونپل جو دل میں پھوٹی ہے اس کو محفوظ رکھنا اب ایک کٹھن مرحلہ لگنے لگتا ہے۔ رمضان کے اختتام کے ساتھ ہی شیطان آزاد ہو جائے گا اور اپنی بھرپور قوت کے ساتھ انسانی نفس کو بہکانے کی کوشش کرے گا۔ اب پہلے سے زیادہ سخت مقابلہ ہوگا۔ ہمیں اس کے وار سے بچنے کے لئے اللہ کی اطاعت کو اپنی ڈھال بنانا ہوگا۔ اس مبارک مہینے میں ہم نے جو جسمانی اور روحانی تربیت حاصل کی ہے۔ اسے اپنی پوری زندگی میں ڈھالنا ہوگا۔ اب رمضان المبارک کی چند ہی راتیں باقی رہ گئی ہیں۔ نجانے ان میں سے کون سی رات لیلۃ القدر ہوگی۔
ماہ رمضان کے آنے پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
"یہ مہینہ آگیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا۔ وہ ہر طرح کے خیر (بھلائی) سے محروم رہا اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو (واقعی) محروم ہو۔"
(سنن ابن ماجہ 1644)
یہ اللہ تعالی کا ہم پر بہت عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں قران پاک، رمضان اور اس میں لیلۃ القدر جیسی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح ان نعمتوں اور رحمتوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ بے شک تھکن کے آثار ہر چہرے پر نمایاں ہیں لیکن اب تو چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تو "ایام معدودات" ہیں۔آئیے پھر سے اٹھیں اور سورہ بقرہ کی آیت نمبر 207 کو اپنے ذہن میں لاتے ہوئے پھر سے اپنی ہمت کو تازہ کریں۔
"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کو کھپا دیتے ہیں اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان، مال، وقت اور صلاحیتیں لگا دینا ہی اصل کامیابی ہے اور اللہ ایسے لوگوں کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ وہ اپنے بندوں پر بہت شفیق ہے، پھر جب رمضان المبارک کی آخری رات آتی ہے تو یہ مزدور کو اس کی مزدوری ملنے کا وقت ہوتا ہے۔ ان لمحات میں رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہر سو برس رہی ہوتی ہے۔ مغفرت کے دروازے کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب فرشتے دعاؤں پر آمین کہہ رہے ہوتے ہیں اور رب کائنات کی رحمت سارے جہاں پر چھا رہی ہوتی ہے۔۔
خدارا رمضان کے ان قیمتی اور بابرکت لمحات کو بازاروں، شاپنگ سینٹروں اور بیوٹی پارلروں کی نذر نہ کریں اور اس مبارک گھڑی میں اپنے اپنے حصے کی اجرت ضرور حاصل کریں تاکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہو سکے۔ اے رب کائنات ہمارے روزوں، ہماری عبادتوں اور ہماری دعاؤں کو قبول فرما اور ہمیں ہمیشہ اپنے پرہیزگار اور عبادت گزار بندوں میں شامل فرما۔ بے شک سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں اور تو ہی حمد و ثنا کے لائق ہے۔





































