
صبا احمد
غزہ کی تکلیف اور آہ وزاری اور مسجد اقصٰی کی تنہائی پر اگر قلم نہیں اٹھایا تو سمجھیں ہم نے مسلمان ہونے کا حق ادا نہیں کیا ۔اس معصوم بچی نے اپنے
دونوں ہاتھوں سے اسرائیلی ٹینک پر پتھر مار کر اپنا حق ادا کیا ہم نے کردیا ۔غزہ احتجاج میں جاکر صیہونیوں اور ڈونلڈ ٹرمپ پر لعنت بھیج کر جوتیاں مار کر بھی ہم غزہ کے لوگوں کی تکالیف کا ازالہ نہیں کرسکتے۔ ان کی روزانہ کی ہجرت بچوں کے ہاتھوں اور پاؤں کا شل ہونا، تھک جانا ، کتنا بڑا المیہ ہے۔ ننگے پاؤں بھوکے پیاسے در بدر معصوم بچے پھر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم کہاں جائیں ۔
سورج بعد میں طلوع ہوتا ہے ،صہیونی رات کی تاریخی میں سلفر بم کے ذریعے پتا نہیں دنیا کا کتنے جدید بارود ان پر آزما چکے ہیں مگر ان کا حوصلہ، نصب العین، ایمان، فلاح اخروی کا حصول انہیں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنے دیتا۔ مسجد اقصیٰ قبل اول کو صیہونیوں کی سازش اور تبرکات کی تلاش میں مارے پھرنا ،چپہ چپہ ڈھونڈ مارا ،انہیں وہ صندوق ملا اور کبھی ملے گا ۔
حسبنا اللہ نعم الوکیل کی طاقت سے غزہ کی ماں بیٹی اور بچہ بچہ جیے جا رہا ہےاور یہودیوں کا مقابلہ کررہا ہے۔ غزہ کی مٹی میں ہزاروں شہیدوں کا لہو ان کے اعضاء اس میں شامل ہیں ۔شہیدوں کے بدن کی مشک ،اسماعیل ہنیہ ،یحیی سنوار ،ابو عبیدہ سب شہادت کے رتبوں کو پہنچ گئے۔ اپنے حصے کا کام کرگئے مگر حماس ابھی بھی اس نعرے کی بانی ہے ۔ مزاحمت میں زندگی ہے۔ قیادت ابھی بھی اپنا کام کررہی ہے ۔
ہم مسلمان ڈونلڈ ٹرمپ سے دوستیاں نبھاتے پھر رہے ہیں ۔غزہ میں ابراہیم اپنے چار بھائیوں کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گیا، تو اسے بھی شہید کردیا گیا ۔ٹاور تاج میں 25اکتوبر کو اسرائیلی بمباری میں 103شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ مائیں ملبے میں سے بچے، شوہر ڈھونڈ رہی ہیں ۔ایسی مائیں جن کی گودیں خالی ہوگئیں ۔ یہودی بمباری کے دوران عورتوں ، مردوں کو یرغمال بنا لیتے ہیں، ان پر تشدد کرتے ہیں ،جو ناقابل بیان ہے ۔
ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیبر کے قلعے کو فتح کرنے والی حکمت عملی کو جاری رکھنا ہوگا۔ ان کے درخت کاٹنے ہیں ۔ان کا معاشی استحصال کرنا ہے۔ بائیکاٹ کرنا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کا مشترکہ بائیکاٹ، یہ تو ہم مسلم ممالک کے ہاتھ میں ہے ۔یہی اسرائیل کو روکنے اور معاشی بائیکاٹ ان کا توڑ ہے ۔
پاکستان نے اسرائیلی ریاست کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور پاکستان فلسطین کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتا ہے ،یہ ہمارا اصولی موقف ہے۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرے گیے ،یہ مسلمانوں کے سینوں میں خنجر ہے ۔
صبا احمد




































