
کراچی(رنگ نو ڈاٹ کام ) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے18ویں ترمیم میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔ان کا
یہ بھی کہنا ہے کہ پی ایس پی اقتدار میں آکر وزارت بلدیات ختم کردے گی،سندھ حکومت 18ویں ترمیم کے خلاف خود سازش کررہی ہے،میں اٹھارویں ترمیم کو نہیں مانتا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے باغ جناح کلفٹن میں اتوار کی شام منقعدہ عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگ مر رہے ہیں،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خدارا اپنا کردار ادا کریں،ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے کراچی بنایا اور پاکستان بنائیں گے،یہ نظام اب نہیں چلے گا، اب فیصلہ ہوگیا ہے،چند دن بعد ہم سڑکوں پر ہون گے اگر مرنا ہی ہے تو ایک ایک کرکے نہیں مریں گے سب ساتھ مریں گے، ہمارے حقوق دینا ہوں گے احتجاج میں سب سے آگے میں خود ہو ں گا،اب ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوگی،پاک سرزمین پارٹی جہاں پر بھی ہوگی وہاں پر بلدیات کا کوئی وزیر نہیں ہوگا،وزیراعلی کے بعد سیدھا میئر ہوا کرے گا، تمام صوبوں کے ووٹ وزیراعظم کے انتخاب کے لئے برابر ہونے چاہئیں، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ایک نظام ہو اور سندھ اور بلوچستان کو پوچھنے والا کوئی نہ ہو جو بلدیاتی نظام وہاں نافذ کیا گیا ہے اس کو ہر پاکستانی کا حق ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ حکومت نے دس سال میں ایک ہزار ارب روپے تعلیم پر خرچ کیے مگر تعلیم کہیں نہیں،اگر صوبائی حکومت وفاق سے ملنے والے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرتی تو آج وہ اٹھارویں ترمیم کو بچانے کے لیے تنہا نہ ہوتی، میں نہیں مانتا ایسی ترمیم کو جس سے میرے بچوں کو صاف پانی، تعلیم اور صحت نہ ملے،اٹھارویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے،بلاول اس اٹھارویں ترمیم کو بچانے کی بات کررہے ہیں جس کے تحت کچرا اٹھانے کے اختیارات بھی وزیر اعلی نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، پی ایس پی مطالبہ کرتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے۔





































