
کراچی/ ٹنڈوآدم ( رپورٹ :سلمان غوری )جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کراچی پریس کلب پراپنے مطالبات کے حق میں
احتجاج کرنے والے اساتذہ پرپولیس تشدد لاٹھی چارج اورآنسوگیس شیلنگ کی شدید مذمت کی ہے. انہوں نےکہا کہ جمہوریت کے دعویدارحکمرانوں نے پیغمبری پیشہ سے وابستہ اساتذہ پرپولیس تشدد ،لاٹھی چارج اورگرفتاریاں کرکے آمریت کے دور کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔
حکومت اساتذہ کے مطالبات پرسنجیدگی کا مظاہرہ اورطاقت استعمال وآمرانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے اساتذہ کے جائز مطالبات کو منظور اوربات چیت کا راستہ اختیا کیا جائے۔
محمد حسین محنتی کاکہنا تھا کہ غلط پالیسیوں کے خلاف اوراپنے جائز مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج ہرشہری کا آئینی و اخلاقی حق ہے،مگرحکومت نے اساتذہ پربدترین تشدد اور گرفتاریاں کرکے انسانی حقوق اورآئین کی خلاف ورزی کی ہے،
پیپلزپارٹی ایک طرف سندھ حکومت کی سرپرستی میں خودکراچی تا لاڑکانہ ٹرین مارچ کرتی ہے توسری طرف احتجاج کرنے والے نہتے اساتذہ کرام پرلاٹھیاں وآنسو گیس کی شیلنگ کرواکے ان کی آواز کو دبانا چاہتی جو اس کے دہرے معیار کی عکاسی ہے۔
صوبائی امیر نے زوردیاکہ حکومت ہوش کے ناخن لے آمرانہ رویہ ترک اورگرفتار اساتذہ کو فی الفور رہا کیا جائے۔





































