
لطیف النساء
میں نہ مانو تیری دہری چال میں پریشان
وقت پرلگا کراڑ جاتا ہےمگر اپنے اچھے برے تاثرات ایسےچھوڑ جاتا ہے کہ وہ مٹنےکا نام ہی نہیں لیتے۔ ویسے بھی دو کام بندہ کسی سے کروا نہیں سکتا" عبادت اور محبت
"جو خود اپنی ذاتی حیثیت میں اس کی تڑپ پائے اور اس پر قائم رہنے کی کوشش کرے وہی سکون کی دولت بھی پا لیتا ہے۔تڑپ طلب اور لگن جس دل میں پائی جائے وہ مقصد حاصل کر ہی لیتا ہے۔ اس کے اندر ساری خوبیاں تھیں صحت مند لکھی پڑی بچوں والی اور ماشاء اللہ قابل حیثیت، مہذب، با اخلاق، پڑھا لکھا شریک حیات سب کچھ تو تھا، نماز روزہ سب کچھ کرتی تھی مگرپھنسے ہوئے تنگ کپڑے جینز کی پینٹ اورچھوٹی سی مردوں والی ٹی شرٹ اس کا لباس تھا،جس پراسےفخر تھا اوراس میں ہی رہنا ٹرینوں میں یا اپنی گاڑی میں سفر کرنا، مردوں کے درمیان وہ ہر کام کرنااسےکبھی برا نہ لگا اورکمال ہے کہ ایک مہذب پنج وقتہ نمازی شوہر کو بھی اس بات پر اعتراض نہ ہوا۔
ایک دو مرتبہ اپنےدیسی لباس میں دوپٹے کے ساتھ اسے دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوئی،حکمت کےساتھ میری دوست نےکہا آپ اس لباس میں بہت ہی اچھی لگتی ہیں ،ہمیشہ ایسی ہی رہا کریں، اس نے جواب دیا آپ کچھ بھی کہیں میں اس لباس میں باہر نہیں جا سکتی۔ پینٹ شرٹ میں پروفیشنل لگتی ہوں اور کسی کو کوئی اعتراض ہو تو ہو یہ میری مرضی ہے۔ جب میرے شوہر کو اعتراض نہیں۔ آنٹی اپنا سا منہ لے کررہ گئیں جبکہ دوسری طرف اسی گھر میں ایک نو سالہ لڑکی جو مہمانوں میں سے تھی ،اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی رہی اور کسی آدمی سے یا لڑکے سے اس نے ہاتھ تک نہیں ملایا جبکہ دوسری بچیاں پراپرکپڑے تک نہیں پہنی ہوئی تھیں اور بہت پرسکون اور خوش تھیں۔
مجھ سے آنٹی کہنے لگیں کہ ماں باپ کا کیا احترام کرتی ہوگی؟ جب ماں باپ اور شوہر ہی خود بچپن سے اپنے ماحول سے حیا نکال دیتے ہیں،مائیں جب خود بچوں کو بولڈ بنائیں اوراپنے ہی سامنے نازیبا لباس پہنیں توآہستہ آہستہ وہ جو نہ کریں وہ کم ہیں!یہ بچے ہی سمجھو ماں باپ کو نبھاتے ہیں۔برے لوگوں، بری صحبت میں بیٹھ کراپنی حیا ہی کھو دیتی ہیں۔بچیوں کو، بچوں کو پورے کپڑے پہنائیں ان کے سامنےعجیب و غریب فلمیں، ڈرامے، غلط روئیے کبھی نہ دکھائیں، یہ ماؤں کی ذمہ داری ہے ۔باپوں کا رویہ ہے جو محبت سے سمجھا کر، ماں باپ ہی اسے کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔ انہیں اٹھنے بیٹھنے بولنے کے آداب ہی انداز اور مہذب لباس آواز و اطوار سے خود ہی رول ماڈل بن کر سمجھائیں۔ اونچی آواز میں چلا چلا کر نخروں سےبولنا بھی حیا کے خلاف ہےہراچھی بات،نیکی، پارسائی، شعوری حیا ہی زینت بنتی ہے اور زینت کا ٹھکانہ جنت اس کے برعکس دوز خ ہے۔بچوں کی تربیت میں بُرے لوگوں میں نہ بیٹھنا،لباس کے تقاضوں کو پورا کرنا اور ایک فاصلہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ حیا لباس سے ہی شروع ہوتی ہے،حیا نہ رہے تو سمجھو بگاڑ ہی بگاڑ،ماحول میں ایک ماچس کی تیلی کی طرح کام کرے گی جو ہزارہا درختوں کو جلا دے! بالکل اسی طرح ایک برائی بے حیائی نسلوں کو اجاڑ دیتی ہے،اس بچی کی ماں سے میں نے پوچھا یہ آپ کی ننھی بیٹی بہت شرم والی ہے، کہنے لگی مجھے اپنی جوانی میں جب میں پردہ نہیں کرتی تھی ایک تلخ تجربہ ہوا کہ ایک غیر مرد نے مجھے کالج سے واپسی پر بھرے راستے میں میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، گھر آکر میں بہت روئی،کالج چھوڑنے تک کا سوچا!مگر ماں نے کہا میں نہ کہتی تھی عبایا پہنو حجاب لو، مجھے اچھی طرح سمجھ آگئی اور اس دن سے آج تک حجاب ہی میرا اعتماد فخر اور محافظ ہے۔اللہ کی ذات عظیم ہے جس نے ہمیں اپنے حدود بتا کر معتبر بنایا۔ اس حیا کی اجارہ داری ہمارے دماغ، سوچ، نظر اور زبان پر ہونا چاہیے یہی خاندان کا خاص کر والد کا غرور، غیرت،عزت ہے۔
یہ ایسا زیورہے،ایسی زینت ہےایسا نور ہےجواس معاشرے کا حسن ہے اور خاندان کا تقدس، میں نے یہ سب اپنی بیٹی کو سمجھایا ہے وہ مجھے دیکھ کر خود بخود سمجھ جاتی ہے بلکہ مجھے بھی برائی سے اکثر روکتی ہے، میری شہزادی پربُری نگاہ اٹھ جائے تو میرے لیے بھی شرم کا مقام ہوگا ہمیں خود اپنی نسلوں کو سنوارنا ہوگا، مرد کو بھی قوامیت اور حیا کی تعلیم لازمی دینی ہوگی، بے حیائی کا داغ کہیں بھی ہو کسی پر بھی ہو بہت بدصورت اور بدنما ہوتا ہے، چاہے دل پر ہو یا دامن پر ایک بڑا برا نقصان اور احساس محرومی ہوتا ہے۔ پردہ دار خواتین اپنی نیت کے مطابق ضرور عزت پاتی ہیں۔ باقی ساری چیزیں مصنوعی اور بیکار ہیں جن سے زندگی وبال ہے۔





































