
لاہور ( اسپورٹس ڈیسک )سابق کرکٹر مدثر نذر نے 31 مئی 2020 کو ختم ہونے والے کنٹریکٹ میں توسیع نہ لینے کا
فیصلہ کیا ہے۔ ڈائریکٹر اکیڈمیز پی سی بی کے عہدے پر کام کرنے والے سابق کرکٹر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے فیصلے سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔
مدثر نذر نے یکم جون 2016 میں پی سی بی کے ڈائریکٹر اکیڈمیز کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ابتدائی طور پر تین سالہ کنٹریکٹ مکمل ہونے کے بعد رواں سال مدثر نذر کے کنٹریکٹ میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔
مدثر نذر کا کہنا ہے کہ دبئی میں آئی سی سی اکیڈمی کے ساتھ کام کرنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں بطور ڈائریکٹر اکیڈمیز کام کرنا ایک اطمینان بخش لمحہ رہا۔
سابق کرکٹر نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے ہی تین سال تک کام کرنے کا سوچ رکھا تھا تاہم دوستوں کی درخواست پر مزید ایک سال کی توسیع قبول کرلی۔ مدثر نذر نے کہا کہ اب وہ اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے واپس برطانیہ جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اپنے گزرے ہوئے دور پر مطمئن ہیں، ا س دوران نیشنل کرکٹ اکیڈمی نے پاکستان کو کئی کرکٹرز دیئے اور ابھی بیشتر کھلاڑی قومی کرکٹ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ مدثر نذر نے کہاکہ انڈر 13، انڈر 16 اور انڈر 19 ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کے ذریعےوہ کرکٹ کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ان کے کنٹریکٹ میں کچھ عرصہ باقی ہے تاہم اس دوران پی سی بی کو اس عہدے کے لیے متبادل ڈھونڈنے کا موقع مل جائے گا۔ سابق کرکٹر نے کہا کہ وہ اس دوران اپنے اہلِ خانہ ، دوستوں اور ساتھیوں کے تعاون اور مدد کے مشکور ہیں۔
دریں اثنا چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہےکہ ہم مدثر نذر کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کھلاڑیوں کی ڈویلمپنٹ کو مدنظر رکھا جائے تو مدثر نذر پاکستان کرکٹ بورڈ کا اہم حصہ رہے، بطور ڈائریکٹر اکیڈمیز ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
وسیم خان کا کہنا ہےکہ مدثر نذر نے ہمیشہ پاکستان کی کرکٹ کو آگے رکھا،انہوں نے ڈائریکٹر اکیڈمیز کے عہدے کے ساتھ ساتھ اپنے تجربے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اہم مشوروں سے نوازا۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی ناگزیر ہے اور ہم ایک مختلف سمت میں آگے بڑھیں گے۔ وسیم خان نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے مدثر نذر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ مدثر نذر کے متبادل کا فیصلہ جلد کرلے گا۔





































