
کراچی (رنگ نو ڈاٹ کام )پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال کہا کہ کراچی کی تقدیرتب تک نہیں بدل سکتی جب تک وزیر اعلیٰ کراچی
سےمنتخب نہ ہو۔ ان خٰیالات کا اظہار انہوں نےعوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے لیاقت آباد نمبر 4، یوسی 42 میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔
مصطفی کمال نے کہا کہ مہاجروں کودرپیش مسائل کے مستقل حل کیلئے ایم کیو ایم کو 30سال میں تین مرتبہ اپنا وزیر اعلیٰ لانے کا موقع ملا، جس سے مہاجروں کی تمام تکالیف اور محرومیوں کا خاتمہ ممکن تھا۔
انہوں نےکہا کہ 1990 میں صرف ایک نشست پر جام صادق کو، 1997 میں لیاقت جتوئی کو اور پھر 2002 میں علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم کو ایم کیو ایم کی 43 نشستیں دے کر وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا جن کے پاس خود صرف 3 یا 4 نشستیں تھیں۔ ان ادوار میں بھرپور مینڈیٹ کے باوجود کوئی ایسی قانون سازی نہیں کی گئی جس سےمہاجروں کے حقوق کا تحفظ اور کوٹہ سسٹم کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ اس وقت یہ لوگ پیسے بنانے اور مراعات کےمزے لینے میں مصروف ہو گئے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ آج جب قوم ان سے کارکردگی کا سوال کر رہی ہے تو مہاجروں کے نمائندے بن کر سندھی بھائیوں کےخلاف بات کر رہے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی اس عمل کو مسترد کرتی ہے۔





































