
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی ) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ معیشت
کی بہتری کے حوالے سے ورلڈ بینک کی رپورٹ اور حکومتی دعووں میں کھلا تضاد ہے،جب سے موجودہ حکومت آئی ہے تب سے مہنگائی بڑھتی جارہی ہے، خوراک کی قیمتوں میں17فیصد ہوا ،مہنگائی اور کم آمدن سے 90لاکھ افراد متاثر ہوئے، وزیر اعظم نے ایک کروڈ نوکریوں کا کہا مگر اب تک20 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے، تاریخ میں سب سے زیادہ حکومتی اخراجات گزشتہ سال ہوئے،ایل این جی سیکٹر اڑھائی کروڈ ڈالر کا فائدہ دے سکتا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اس کو نظر انداز کردیا ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ کل وزیراعظم نے کہا کہ معیشت اچھی ہوگئی ہے ۔ان کی ٹیم باربار یہ بات دہرا رہی ہے ،حکومتی ترجمان کہہ رہے ہیںکہ معیشت پھنسی ہوئی ہے ،بجلی ،گیس اور سکول فیس ادا کرنے جائیں تو معیشت کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،مہنگائی مسلم لیگ ن کے دور میں چار فیصد سے کم تھی ،پہلی دفعہ آمدنی ساڑھے پانچ فیصد گر کر تین فیصد تک پہنچ گئی ،مہنگائی بڑھ رہی ہے آمدنی کم ہورہی ہے ،وزیراعظم کے بیان کے بعد موازنہ کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے رہنمامحمد زبیر نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا کہا تھا ،لیکن بیس لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں ،نوے لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے جاچکے ہیں ،جون دوہزار بیس تک ایک کروڑ پاکستانی مزید نیچے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریونیو میں چھ سے سات سو بلین کم ہوئے ہیں ،پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ اخراجات پچھلے ایک سال میں ہوئے،عوام کو ہماری معیشت اور مہنگائی کا خوب اندازہ ہیں ،مہنگائی بلند ترین شرح پر پہنچ چکی ہے ،بنیادی خوراک کی اشیا کی قیمتیں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ سال 2020میں پاکستان کا گروتھ ریٹ اڑھائی فیصد رہے گا ،معیشت نیچے جا رہی ہے ، مہنگائی بڑھ رہی ہے ،عمران خان نے ایک کروڑ روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا ،ایک سال میں 20لاکھ افراد روزگار سے محروم ہوئے ،حکومت کی آمدن میں دعووں کے برعکس 450ارب کی کمی ہوئی ہے،وزیراعظم کو اکانومی کے حوالے سے سیکھنا چاہیے،روزویلٹ ہوٹل بیچنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس وہی ہے جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور کا تھا ،نیب آرڈیننس بدلنے کی نہیں وزیراعظم کو بدلنے کی ضرورت ہے ،آرڈیننس بدلنے کی کیا جلدی تھی ،بی ارٹی پر پشاور ہائیکورٹ نے تحقیقات کا حکم دیا تھا ،اس سے بچنے کیلئے یہ سب کچھ کیا ہے، اگر سمجھتے تھے کہ یہ ضروری ہے تو پارلیمنٹ میں لیکر آتے ،پچھلے ڈیڑھ سال میں نیب کا غلط استعمال کیا گیا ،اے این ایف کی تذلیل کیا ،ایف آئی اے کو بھی خراب کردیا ہے ۔





































