
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو
کشمیرکی صورتحال کاجائزہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ 7دہائیوں سے کشمیر کامسئلہ حل طلب ہے۔ یہ تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے ، عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ ایوان صدر میں کشمیر کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر امور کشمیرعلی امین گنڈاپور اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سیدفخر امام نے بھی خطاب کیا۔ صدرمملکت نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے ۔ معصوم کشمیریوں کیخلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے ۔ کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہیے۔ تقسیم برصغیر کے فارمولے کے مطابق کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کے عوام کے حقوق کے تحفظ میں واضح فرق ہے۔ بھارت ہندوتوا نظریے پر عمل پیرا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت میں بھی مسلمان غیر محفوظ ہیں ۔ بھارتی گجرات میں فسادات کے دوران تین ہزار سے زائد مسلمان قتل ہوئے بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں بھارت میں متنازعہ شہریت قانون سے اقلیتوں کو سخت خطرات لاحق ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اپنے اندرونی مسائل پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرارہا ہے۔ اقوام متحدہ مبصرین کو مقبوضہ وادی کے حالات کا جائزہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے۔
کشمیریوں کی آوازبلندکررہے ہیں بھارتی افواج نے مقبوضہ وادی میں تعلیم اور کاروباری شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ 5 فروری کو ملک بھر میںبھرپور طریقے سے یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا ۔ صدر مملکت نے کہاکہ دور جدید میں لوگوںکو ان کے حقوق سے محروم رنہیں رکھا جاسکتا ۔





































