
اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ، پاکستان کی خوشی ہماری
خوشی ہے، ترکی مسئلہ کشمیر کے پرامن اور بات چیت کے ذریعے حل کے موقف پر قائم رہے گا، مسئلہ کشمیر کا حل طاقت یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف و حقانیت کے اصولوں سے ممکن ہے، پاکستان کے ساتھ ازل سے جاری ہمارے برادرانہ تعلقات تا ابد قائم رہیں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کے معزز نمائندوں کی موجودگی کے توسط سے اپنے تمام بہنوں اور بھائیوں کو بڑے عزت و احترام سے سلام محبت پیش کرتا ہوں، پاکستان کے سرکاری دورہ کے موقع پر معزز ممبران سے مخاطب ہونا میرے لئے بڑی خوشی اور مسرت کا مقام ہے، آج ہمیں اس عظیم الشان ماحول میں ہمارے دلوں کو یکجا کرنے کا موقع فراہم کرنے پر میں اﷲ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں اور حمد و ثناءپیش کرتا ہوں۔ اس مشترکہ اجلاس میں مجھے خطاب کرنے کا موقع فراہم کرنے پر میں آپ سب کا الگ الگ حیثیت سے بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ترکی کے صدر نے کہا کہ انسداد دہشت گردی میں ہم پاکستان سے تعاون آئندہ بھی جاری رکھیں گے، سرحدیں اور فاصلے مسلمانوں کے دلوں کے درمیان دیوار نہیں بن سکتے، دنیا بھر کے مسلم بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف ان کا ساتھ دینا ہم سب کا فرض ہے، ہمارا ایمان ہے کہ ظلم کا مقابلہ نہ کرنا ظلم کرنے کے مترادف ہے، مسلم امہ دہشت گردی، جنگوں، مذہب پرستی، مفلسی اور غربت کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، پاکستان ترقی و خوشحالی کے سفر کی جانب رواں دواں ہے، اقتصادی ترقی کا عمل دنوں میں نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ میرے اسلام آباد میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی جس طریقے سے پاکستان کے عوام نے گرمجوشی اور محبت سے ہمارا استقبال کیا، میں اس پر پاکستانی قوم اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے خلوص اور مہمان نوازی پر آپ سب کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ہم یہاں پاکستان میں کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی محسوس نہیں کرتے۔
براعظم ایشیاءکے اہم مراکز میں سے ایک میں اور عالم اسلام کے اس جغرافیائی خطے میں اپنے آپ کو اپنے ہی گھر میں محسوس کرتے ہیں۔ ترکی اور پاکستان جیسے برادرانہ تعلقات دنیا میں شاید ہی دیگر ممالک یا اقوام میں دیکھے جا سکتے ہوں، آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات جو سب کے لئے قابل رشک ہیں، دراصل تاریخی واقعات ہی کے نتیجہ میں مضبوط اور پائیدار ہوئے ہیں اور اسے حقیقی برادرانہ تعلقات کا روپ دیا گیا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ سلطنت غزنیہ کے بانی محمود غزنوی کے دور سے ترک اس وسیع جغرافیہ کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ سلطنت مغلیہ کے بانی ترکی النسل ظہیر الدین بابر اور دیگر مغل حکمرانوں نے موجودہ پاکستان سمیت تمام خطے پر تقریباً 350 سال حکومت کی اور ہماری مشترکہ تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔
انہوں نے کہا کہ ہم شدید دباﺅ، دھمکیوں اور غربت کا شکار ہونے کے باوجود ترکوں کو تنہاءنہ چھوڑنے والے اور وفاءکے پیکر ان بھائیوں کو بھلا کیسے فراموش کر سکتے ہیں۔ ایسا ممکن ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ازل سے چلے آنے والے ہمارے یہ برادرانہ تعلقات تا ابد قائم رہیں گے کیونکہ ہمارا اخوت کا رشتہ رشتہ داری نہیں بلکہ دل کی لگن کا رشتہ ہے۔ ہماری دوستی مفاد پر مبنی نہیں بلکہ عشق و محبت سے پروان چڑھی ہے۔ پاکستان کا دکھ درد ہمارا دکھ درد ہے، پاکستان کی خوشی ہماری خوشی، اس کی کامیابی و کامرانی کو اپنی کامیابی و کامرانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے ساتھ ہم نے پاکستان میں حالیہ کچھ عرصہ کے دوران آنے والی قدرتی آفات، سیلاب اور زلزلہ کی تباہ کاریوں کے موقع پر اپنے تمام امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے بھائیوں کی مدد کو دوڑے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں 15 جولائی کی ناکام بغاوت جس میں251 شہادتیں ہوئیں، کے بعد پاکستان کے عوام کی دعاﺅں کو ہم نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکام نے دہشت گرد تنظیم فیتو سے منسلک سکولوں کو ترکی کی معارف فاﺅنڈیشن کے حوالے کرتے ہوئے ہماری قوم کے حقیقی دوست ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا۔





































