
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)تحریک انصاف کے دو سینئر رہنماؤں و وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان
سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ کردیا تاہم وزیراعظم نے انہیں اس حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کروائی اور خاموشی سے دونوں وزراء کی باتیں سنتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کا موقف تھا کہ فواد چوہدری نے انٹرویو میں یہ تاثر دیا کہ پارٹی اور حکومت ہماری وجہ سے ناکام ہورہی ہے اور ہم لوگ پارٹی میں تقسیم کے ذمہ دار ہیں دونوں وزراء نے عمران خان کی قیادت پر اظہار اعتماد کیا اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ ایسی باتیں میڈیا پر کرنے سے پارٹی اور حکومت کمزور ہوگی لہٰذا فواد چوہدری کیخلاف اگر کارروائی نہ کی گئی تو نرمی کا تاثر جائے گا اور یہ بات پارٹی ڈسپلن پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے دونوں وزراء کی باتیں توجہ سے سنی لیکن فواد چوہدری سے استعفیٰ لینے سے متعلق کوئی بات نہیں کی اور کہا کہ وہ سارے معاملات کوسمجھتے ہیں دوسری طرف ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فواد چوہدری نے جو انٹرویو دیا وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دیا اور ایک اہم شخصیت کو اس بارے میں پہلے سے معلوم تھا اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل نے جو فواد چوہدری کی حمایت کی اس پر انہیں خصوصی طور پر کراچی سے کابینہ اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی تھی باقی وزراء ویڈیو لنک پر تھے اور کابینہ اجلاس کے دوران فیصل واڈا کی اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سے بدمزگی بھی ہوگئی تھی۔
شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے فوادچوہدری سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ کردیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)تحریک انصاف کے دو سینئر رہنماؤں و وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ کردیا تاہم وزیراعظم نے انہیں اس حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کروائی اور خاموشی سے دونوں وزراء کی باتیں سنتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کا موقف تھا کہ فواد چوہدری نے انٹرویو میں یہ تاثر دیا کہ پارٹی اور حکومت ہماری وجہ سے ناکام ہورہی ہے اور ہم لوگ پارٹی میں تقسیم کے ذمہ دار ہیں دونوں وزراء نے عمران خان کی قیادت پر اظہار اعتماد کیا اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ ایسی باتیں میڈیا پر کرنے سے پارٹی اور حکومت کمزور ہوگی لہٰذا فواد چوہدری کیخلاف اگر کارروائی نہ کی گئی تو نرمی کا تاثر جائے گا اور یہ بات پارٹی ڈسپلن پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے دونوں وزراء کی باتیں توجہ سے سنی لیکن فواد چوہدری سے استعفیٰ لینے سے متعلق کوئی بات نہیں کی اور کہا کہ وہ سارے معاملات کوسمجھتے ہیں دوسری طرف ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فواد چوہدری نے جو انٹرویو دیا وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دیا اور ایک اہم شخصیت کو اس بارے میں پہلے سے معلوم تھا اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل نے جو فواد چوہدری کی حمایت کی اس پر انہیں خصوصی طور پر کراچی سے کابینہ اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی تھی باقی وزراء ویڈیو لنک پر تھے اور کابینہ اجلاس کے دوران فیصل واڈا کی اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سے بدمزگی بھی ہوگئی تھی۔





































