
اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت دیگر نامزد ملزمان کے خلاف اشتہاری
کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔عدالتی احکامات کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور شہر کے مختلف نمایاں مقامات پر ملزمان کی طلبی کے نوٹسز آویزاں کر دیے گئے ہیں، جن میں انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری تحریری نوٹسز میں واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، مینا خان، امجد خان، شفیع اللہ جان اور امجد آفریدی مسلسل عدالتی احکامات کی تعمیل سے گریز کر رہے ہیں یا روپوش ہیں، جس کے باعث عدالت کو قانون کے مطابق سخت کارروائی اختیار کرنا پڑی۔
نوٹسز میں تمام نامزد افراد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کریں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ ملزمان کے لیے آخری موقع ہے تاکہ وہ تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 87 کے تحت اشتہاری قرار دیے جانے سے قبل حاضری یقینی بنا سکیں۔
عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس آخری مہلت کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انہیں باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دے دیا جائے گا، جس کے بعد ان کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عدالت کی جانب سے جاری نوٹسز میں یہ بھی درج ہے کہ اشتہاری قرار دیے جانے کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ عدالتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ نوٹسز کی عدم تعمیل کی صورت میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں گے۔





































