
واشنگٹن( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں اپنے دورِ حکومت کو امریکا کی تاریخ کا
فیصلہ کن اور کامیاب ترین دور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چند ہی مہینوں میں ایسی کامیابیاں حاصل کی گئیں جو ماضی میں دہائیوں میں بھی ممکن نہ ہو سکیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور کی پالیسیاں دوبارہ نافذ نہیں کی جائیں گی اور امریکا میں غیر قانونی آمد و رفت کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سرحدیں اب مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت غیر قانونی داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں کرپشن کے خاتمے، ریاستی اداروں کی مضبوطی اور امریکا کو دوبارہ عالمی قیادت کے مقام پر لانے کا مینڈیٹ دیا، جس پر وہ پوری طرح پورا اترے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ان کے اقتدار سے قبل امریکا شدید معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں کا شکار تھا، تاہم آج ملک دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی شہریوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ خوراک، ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے عام آدمی کو براہِ راست ریلیف ملا۔ انہوں نے مہنگائی میں واضح کمی کو درست معاشی فیصلوں اور سخت پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے امریکا کی دفاعی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج موجود ہے جو ملکی دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سخت اقدامات کے باعث زمینی اور بحری راستوں سے منشیات کی ترسیل میں 94 فیصد تک کمی آئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیرف پالیسی کو معاشی کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی پالیسیوں کے باعث امریکا میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئی اور ملکی صنعت کو فروغ ملا۔ ان کے مطابق مضبوط معیشت ہی کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتی ہے اور امریکا اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے محض 10 مہینوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں جاری 8 جنگیں رکوا دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ کیا گیا اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بحال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق غزہ کی جنگ کا خاتمہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں طویل عرصے بعد حقیقی امن قائم ہوا، جبکہ تمام زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی رہائی اور وطن واپسی کو بھی یقینی بنایا گیا۔
خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو مزید قوانین یا کمزور فیصلوں کی نہیں بلکہ ایک مضبوط، فیصلہ کن اور جرات مند قیادت کی ضرورت تھی، جو انہوں نے فراہم کر کے دکھا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک بار پھر دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور آئندہ بھی قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔





































