
اسلام آباد (ویب ڈیسک،فوٹو فائل )وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت آئندہ لانگ مارچ کے ذریعے ملک میں
بدامنی اور تشدد پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کا مقصد سرکاری اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ اس مبینہ حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے بنوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا جائزہ لینا ضروری ہے، جہاں شدت پسندوں کے حملے کے بعد سیاسی عناصر نے افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بقول 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت تحریک انصاف کے کارکنوں اور کالعدم گروہوں کی مدد سے احتجاج کی آڑ میں سکیورٹی فورسز کی تنصیبات پر حملے کی کوشش کر سکتی ہے، تاکہ ملک میں 9 مئی جیسے حالات پیدا کیے جائیں، انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو مبینہ منصوبہ بندی سے متعلق بروقت اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کے حالیہ اعلامیے میں واضح کردیا گیا ہے کہ کسی بھی بہانے سے ریاستی اداروں پر حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی،ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے دوران تشدد یا قانون شکنی کی کوئی کوشش ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت دو الگ معاملات ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی سیاسی سرگرمی کی آڑ میں ریاست کے خلاف مسلح کارروائی کی کوشش کرتا ہے اور بھارتی حمایت یافتہ گروہوں سے تعاون کرتا ہے تو اسے ریاست کے خلاف اقدام تصور کیا جائے گا اور حکومت اس کے خلاف تمام قانونی و ریاستی وسائل استعمال کرے گی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی اور ریاست کسی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گی، جس سے ملک میں دہشت گردی، تشدد یا امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہو۔




































