
اسماء معظم
(حریم ادب )
انس تھکا ماندہ اسکول سےآیا۔ اس نےآتے ہی بستہ بستر پرپٹخ دیا اور امی سے گویا ہوا
امی مولانا مودودی کون تھے ۔۔۔۔؟ مس کہ رہی تھیں مولانا بہت اچھے انسان تھے ، انہوں نے یہ اوریہ کام کیے ،ڈھیر ساری کتابیں لکھیں اور میں نے اسلام کو ان کی کتابوں ہی سے سمجھا۔۔۔۔ انس ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔
امی مسکرائیں اور خوش ہو کر بولیں ہاں بیٹا! "یہ ہمارے محترم مولانا سید ابوالاعلی مودودی تھے۔یہ جماعت اسلامی کے بانی تھے یعنی جماعت اسلامی کی بنیاد انھوں نے ہی رکھی اورڈھیر ساری کتابیں لکھیں۔"
اچھا امی ڈھیر ساری کتابیں۔۔۔۔۔!
انس نے حیرت و استعجاب کے عالم میں کہا تو امی کو بھی ہنسی آ گئی ۔وہ بولیں" بیٹا یہ لٹریچر ہی تو ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔ "تفہیم القران "جو قرآن مجید کی تفسیر ہے انہوں نے ہی لکھی ۔ یہ تفسیر ہمارے لیے کسی نعمت عظمی سے کم نہیں۔ میں نے اتنی ساری تفاسیر کا مطالعہ کیا لیکن جو بات اس تفسیر میں پائی وہ کسی تفسیر میں نہیں ۔ ۔۔۔۔!
وہ کیا بات امی۔۔۔۔۔؟ انس نے امی سے پوچھا ۔وہ انتہائی شوق سے ان کی گفتگو سن رہا تھا ۔
بیٹا تفہیم القرآن کا ترجمہ اور تفسیر انتہائی آسان الفاظ میں کی گئی ہے جو ایک عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ میں تو کہتی ہوں اس تفہیم القرآن کا مطالعہ سب کوکرنا چاہئے ۔ماوں کو چاہیئے کہ اپنےبچوں کو ایک خاص عمر سے اس کا مطالعہ کروائیں ۔بیٹا آپ بھی اب اس کو پڑھنا شروع کر دیں جو سمجھ میں نہ آئے مجھ سے پوچھیں، میں آپ کی رہنمائی کروں گی۔۔۔۔۔۔!
ارے یہ کیا ہمیں باتیں کرتے کرتے اتنی دیر ہو گئی! امی نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
"انس آپ جلدی سے یونیفارم بدلیں اور منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھانے کے لئے آ جائیں۔"
امی کھانا لینے چلی گئیں۔ انس بھی ان کے پیچھے یہ کہتے ہوئے چل دیا کہ"امی مولانا کی کتابوں کے بارے میں تو بتائیں،آپ نے تو بتایا ہی نہیں ۔۔۔۔یہ سن کر امی بولیں نہیں ابھی نہیں پہلے کھانا۔۔۔۔ پھر باتیں۔۔۔!
انس اس شوق میں کہ امی مولانا کی بہت سی باتیں بتائی گئی ہاتھ منہ دھونے چلا گیا اور پھر جلدی سے آ کر کھانا کھانے لگا۔امی انس کو کھانا کھاتے دیکھ کر بولی انس تم نے میری بات مان کر مجھے خوش کر دیا میں تمہیں مولانا کی کتابوں کے بارے میں بتاتی ہوں ۔
مولانا مودودی کی کتابوں میں دینیات ،خطبات ،سلامتی کا راستہ ،بناؤ بگاڑ وغیرہ شامل ہیں ۔۔۔۔اور اس کے علاوہ بھی بہت ساری کتابیں ہیں جو انہوں نے اس مقصد کے لیے لکھیں تاکہ لوگوں کو دین اسلام کی صحیح سمجھ آئے ۔اور ان کتابوں میں خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے تمام پہلوؤں پر نہایت عمدگی سے روشنی ڈالی ہے تاکہ عمل کے لئے ہم اس سے باآسانی اصول اخذ کر سکیں یہ مولانا کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔
خطبات میں عبادت کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔ سلامتی کا راستہ میں توحید کو آسان الفاظ اور مثالوں کے ذریعے سمجھایا گیا ہے ۔
ہمیں چاہیےکہ مولانا کی کتابوں سے استفادہ کریں ۔بیٹا آپ بھی ابھی سے تھوڑا تھوڑا مطالعہ شروع کر دیں۔
انس نے اثبات میں زور زور سے گردن ہلائی جیسے واقعات سب کچھ سمجھ رہا ہو۔ اور بھی بتائیں نا ں امی۔۔۔۔ انس نے انتہائی لجاجت سے کہا۔
" بیٹا مولانا مودودی بہت ہی نیک انسان تھے۔ انہوں نے ساری زندگی لوگوں تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے میں وقف کر دی اور جو مشکلات آ ئیں وہ ان سے ہرگز نہ گھبرائے ،نہ ڈرے ،بلکہ وہ انتہائی بہادر انسان تھے۔ لوگوں نے ان کی کتابوں میں لکھی گئی باتوں پر بھی بہت اعتراضات کیے لیکن وہ اپنا کام کرتے چلے گئے اور ان کا کام زندگی کے آخری دم تک جاری و ساری رہا۔ ان کی زندگی ہمارے لیے عظیم مشعل راہ ہے ،جو ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیاں دین اسلام کے لئے وقف کر دیں اور ان کے لٹریچر یعنی کتابوں سے استفادہ کریں اور جو بچے ان اسلامی کتابوں کو نہیں پڑھتے وہ دوسری خراب کتابوں میں لگ جاتےہیں پھر ان کو ایسی چاٹ لگتی ہے کہ اچھی کتابیں ان کو اچھی نہیں لگتیں۔"
امی نے یہ کہا اور اپنی کمرکرسی کی پشت سے ٹکا دی ۔
جزاک اللہ امی۔۔۔۔۔ آپ نے تو مولانا مودودی کے بارے میں بڑی اچھی اچھی باتیں بتائیں۔ میں ان کی تفسیر اور لٹریچر کا مطالعہ بھی کروں گا اور ان کے مشن کو بھی جاری رکھوں گا اور پھر انس ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھ کر چل دیا ۔





































