
اسما معظم/ کراچی
ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں ،اور اللہ تعالی سے محبت کا دعوی کرتے ہیں ، لیکن ہمارا یہ ایمان اور دعوی محبت ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا جب تک ہم آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کریں گے۔ ہماری محبت کے جواب میں خدا ہم سے لازماً محبت کرے گا۔وہ ہمارے گناہوں کی مغفرت بھی فرمائے گا لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرکے اپنی محبت کا ثبوت دیں ۔خداکا ارشاد ہے !
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم ط واللہ غفور رحیم ۔(ال عمران آ یت نمبر 31)
"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم واقعی خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو . خدا تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا .وہ بہت ہی معاف کرنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے ."
ہمارا اللہ سے تو بہترین تعلق ہو لیکن ہم سنت رسول سے بےنیاز ہو کر اپنے من مانے طریقے پر زندگی گزاریں تو اللہ کی نظر میں ایسے تعلق بااللہ کی کوئی قیمت نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے نیازی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہی نہیں شہنشاہ کائنات کی توہین ہے ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے نمائندے اور خدا کے ترجمان ہیں، وہ بھیجے اس لیےجاتے ھیں کہ اللہ کے اذن سے ہم سب ان کی اطاعت کریں ۔
وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ط (سورہ نساء 64)
" ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لئے بھیجا ہے کہ خدا کے اذن کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے ۔"
یہ آیت دو ٹوک انداز میں بتاتی ہے کہ اب رہتی دنیا تک اتباع اور پیروی کے لائق صرف خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور کسی کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ رسول ص کو چھوڑ کر کسی اور کی پیروی کرے ۔
قرآن مجید ہمیں اسلام کے احکامات بتاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ان احکامات پر چلنے کے طریقے بتاتی ہے۔ اس طرح قرآن مجیداور سنت لازم و ملزوم چیز ہیں۔ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔اگر ہم صرف قرآن مجید پڑھیں اور سیرت رسول ص کو چھوڑ دیں تو ہم قرآن حکیم پر عمل نہیں کرسکتے۔ قرآن حکیم پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں سیرت کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ضروری ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں کیوں مبعوث فرمائے گئے؟ ان کی تعلیمات کیا تھیں؟ ان کا مشن تھا ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اب خدا کی اطاعت کرنے اور مسلم ہونے کی صرف ایک ہی شکل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق زندگی گزاری جائے۔ ہمارا دعوی اسلام بالکل غلط ہوگا کہ ہم آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کے قائل نہ ہو اور اسی طرح ہمارا اسلام پر ایمان بھی معتبر نہیں ہوگا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف رسول ہوناہی کافی سمجھیں اور آپ کی اتباع یا پیروی نہ کریں ۔
خداکا ارشاد ہے !"تم میں سےکوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش اس شریعت کےتابع نہ ہوجائے جومیں لےکر آیا ہوں ۔"
لہذا اسلام کی شاہراہ پر چلنے کے لئےضروری ہے کہ ہمارے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بے مثال عقیدت و محبت ہو،ایسی محبت جو دنیا کی ہر محبت پر غالب ہو ،اور عمل کی زندگی میں اس محبت کی علامت یہ ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ صرف محبت ہو بلکہ ھمارے دل میں آپ ص سےعزت و عظمت اور فاداری کا زبردست جذبہ بھی موجودہو ، رسول اللہ صلی وسلم کی سیرت کو جاننے کی غیر معمولی تڑپ ہو،اور زندگی کے ہر موڑ پر پر ہم یہ جاننے کے لئے فکرمند ہوں کہ رسول ص کا عمل اس معاملے میں کیا تھا یا کیا ہوتا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روز و شب کیسے گزارتے تھے؟ آپ کیسے سوتے تھے؟ پانی کیسے پیتے تھے ؟ کھانا کیسے کھاتے تھے؟لوگوں سے کیسے پیش آ تے تھے؟اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ گھر والوں کے ساتھ کیسا تھا؟ آ پ کے اخلاق کیسے تھے؟جب تک ہمیں ان باتوں کا علم نہیں ہوگا ہم اپ ص کی سیرت پر عمل نہیں کر سکتے، لہٰذا ضروری ہے کہ اگر ہم اپنی زندگیوں کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں اور دل و جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہو گا ۔اللہ کے نبی کی سیرت کے مطالعہ کے بغیر ہم ان کی سیرت پر عمل نہیں کر سکتے
۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق اپنی سیرت کوڈھالنا اور دل و جان سےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پرچلنا ہی دراصل ہمارے حب رسول کی دلیل ہےاور ہم صحیح معنوں میں مسلمان اسی وقت کہلائیں گے جب ہم قرآن کے مطالعے کے ساتھ ساتھ سیرت کو جاننے کی کوشش کریں گے اوراس کا مطالعہ کریں گے اور پھر اس مطالعہ کے بعد ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے نبی کی سیرت کے مطابق با آسانی ڈھال سکیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔
اللہ تعالی سےدعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سلم کی تعلیمات کو جاننے اورسمجھنے والا بنائےاور انتہائی عقیدت ومحبت کے ساتھ عمل کرنے والا بنائے آمین ثم آمین یا رب العالمین





































