اسماء معظم
اسلام جس اعلیٰ تہذیب و تمدن کا داعی ہے،وہ اسی وقت وجود میں آسکتا ہے،جب ہم ایک پاکیزہ معاشرہ تعمیر کریں،اور پاکیزہ معاشرے
کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ ہم خاندانی نظام کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنائیں۔
خاندانی نظام کا آ غا ز شوہر اور بیوی کے پاکیزہ ازدواجی تعلق سے ہوتا ہے اور اس تعلق کی خوشگواری اوراستواری اسی وقت ممکن ہے جب شوہر اور بیوی دونوں ہی ازواجی زندگی کے حقوق و فرائض سےواقف ہوں اور ان حقوق و فرائض کو بجالانے کے لئے لیے پوری دل سوزی ،تندہی ،خلوص اوریکسوئی سے سرگرم عمل بھی ہوں۔
گھر والوں سےانسان کا ہر وقت رابطہ رہتا ہے ۔گھریلو زندگی ھی وہ میدان ہے جس کی بے تکلف زندگی میں انسان کے مزاج اور اخلاق کا ہر رخ سامنے آتا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !کہ،"تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے اچھا ہے اور میں تم میں اپنےگھر والوں کے لئے سب سے اچھا ہو ں۔"
اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے۔ جس میں کچھ حقوق وفرائض مرد پرعائد کئے گئےہیں اورکچھ حقوق وفرائض عورت پرعائد کئے گئے ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور سوال کیا!
" کسی شخص کی بیوی کا اس کے شوہر پرکیا حق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!
" اس کا حق یہ ہے کہ جب تو کھائے ،تو اسے کھلائے، جب تو پہنے ،تو اسے پہنائے ۔"
شوہر اپنی بیوی کے کھلانے پلانے پہننےاور اوڑھنے بچھونے کا اسی وقت خیال رکھ سکتا ہے جب وہ اپنی معاش کی زمہ داری بہتر طریقے سے ادا کرتا ھے اور یہ معاش کےحصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ھے اور اللہ کے نبی نے اس سلسلے میں فرمایا کہ،
"ہروہ لقمہ جو انسان اپنےاہل و عیال کو رزق حلال کے ذریعےفراہم کرتا ہے وہ اس شخص کے لئے صدقے اور اجر کا باعث بنتا ہے ۔
اسی طرح ایک شخص نے سوال کیا کہ کونسی عورت جنت میں جائے گی؟نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا!
" وہ عورت جو پانچوں وقت کی نماز پڑھے،اوررمضان کے روزے رکھے , اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے , اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے, تو وہ جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہو ."
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کے لئے یہ بھی فرمایا !(جس کا مفہوم ہے )!کہ،" ملگجے بالوں والی اور دھوئیں (باورچی خانے کے دھوئیں میں) میں اٹی ہوئ عورت، اور میں اس طرح ہونگے۔ "(آ پ نے ہاتھ کو اٹھایا اورشہادت اور درمیان کی انگلی کو ملا کر دکھایا.)۔۔۔۔۔۔ یہ ایک عورت کے لئے کتنی بڑی سعادت ھے کہ آ خرت کے دن اس کو اللہ کے نبی کا ساتھ نصیب ہو۔
وہ عورتیں جو گھر کی ذمہ داری ادا نہیں کر رہیں یا وہ عورتیں جن کے پیر گھر پر نہیں ٹک رہے،جو" اپنا جسم اپنی مرضی" کے طرز پر زندگی گزارنا پسند کرتی ہیں اور اپنے شوہروں سے یہ مطالبہ کریں کہ تم پکاؤ میں کھاؤں اور اپنے شوہروں کو کسی خاطر میں نہ لائیں اور شتر بے مہار کی طرح زندگی گزاریں، یہ حدیث ان کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے ۔ اسی طرح اپنی مرضی سے ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرکے، باہر اپنی مرضی کی ملازمتیں اختیارکرنا جبکہ اس کی کوئی حقیقی یا لازمی ضرورت بھی نہ ہو اسلام کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام تعلم یا تعلیم کا مخالف ہےبلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام فطری ذمہ داریوں سے فرار کا سخت مخالف ہے وہ خواہ مرد کا فرار ہو یاعورت کا۔
میاں بیوی کے اس بندھن کے بعد اولاد وجود میں آتی ہے۔ جو میاں بیوی کےلئے بہت بڑی سعادت،عزت اور بابرکت ثابت ہوتی ہے ۔اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !کہ" اولاد کا اچھا نام رکھو ."
اور آ پ نے یہ بھی فرمایا! کہ "باپ اپنی اولاد کو جو بھی دیتا ھے اس میں سب سے بہتر چیزاچھی تعلیم وتربیت ھے"یعنی اسلامی تہذیب کے طرز پر بہترین تربیت کرو اور جو بھی ایسا کرےگا وہ جنت کا حقدار ھوگا۔
شادی اسلام میں ایک فطری عمل ہے ۔یہ حقیقتاً باعث سعادت بھی ہے اور بابرکت بھی ۔وہ اس طرح کہ انسان بہت سی اعصابی، نفسیاتی عوارض،الجھنوں اور مرائض سے بچ جاتا ہے۔اور ایک پرسکون زندگی گزارتا ھے۔
شادی کے بعد جو اولاد اس جوڑے سے حاصل ہوتی ہے وہ ماں باپ کے لئے کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہوتی۔ جو اس رشتہ ازدواج کے بابرکت ھونے کی بہت بڑی دلیل ھے ۔لڑکے بڑے ہو کر معاش کی زمہ داری سنبھالتے ہیں اور باپ کا سہارا بنتے ہیں ۔ لڑکیاں بڑی ہو کر ماں کا سہارا بنتی ہے اور ان دونوں سے ماں باپ کو آ نکھوں کی ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے اور جب یہ اولادیں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو نانی نانا، دادی دادا، پھوپھو چچا،خالہ ماموں جیسے محترم رشتے وجود میں آ تے ہیں۔
مسلمانوں کے معاشرے میں ہمیشہ سے خاندانی نظام اوررشتوں کا نظام بہت مضبوط رہا ہے، اور الحمد اللہ آ ج بھی ایساہی ہے۔ اگرچہ دجالی تہذیب کا ایک آ لہ" مادر پدر آزاد میڈیا"اس نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، لیکن اس کے باوجود چونکہ رشتوں کا نظام مسلم معاشرے میں خدا اور رسول کے فرمانوں کے مطابق ہے ،اس وجہ سے یہ آ ج بھی اچھا خاصا مضبوط ھے۔ اس کے برعکس غیر مسلم معاشرے اس دجالی حملے کی تاب نہ لا سکے ھیں، اس بناء پر غیر مسلم معاشروں میں غیر فطری طرز زندگی، خود کشیاں، نفسیاتی اور روحانی امراض مسلم معاشروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ اس کی بڑی وجہ بھی اسلام سے مسلم معاشروں کا جڑا ہونا ھے۔اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مضبوط مسلم گھرانے سے نکلنے والے افراد وہ خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے،اسانی سےدجالی تہذیب کا نشانہ نہیں بنتے۔





































