
اسماء معظم
پہلا بین الاقوامی سیرہ پروگرام کا انعقادکیا گیاجونہایتہی مفید پروگرام تھا۔ دعوہ اکیڈمی مرکزبرائےخواتین کی جانب سے یہ
پروگرام طلباء وطالبات اورتمام قلمکارمردوخواتین پرمشتمل تھاجس کی روح رواں ڈاکٹر فریال عنبرین تھیں۔
اس پروگرام کےانعقاد سےپہلےواٹس ایپ پرمردوخواتین کا الگ الگ گروپ تشکیل دیا گیا۔اس گروپ میں ہمیں روزانہ 3 ویڈیوز بھیجی جاتی تھیں جو ہم روانہ سنتے تھےاورنوٹ بک پراس کےنکات بھی لیتےجاتے۔یہ سلسلہ 7 ستمبر تک جاری رہا۔ سیرت پراتنے مفید لیکچرزسننا میرے لئے انتہائی خوشی کی بات تھی اور کسی اعزاز سے کم نہ تھی ۔ یہ تمام لیکچرز میں نے باقاعدگی سے سنے ۔ شب وروز کی بھاگتی دوڑتی مصروف زندگی کے باوجود نبی کریم سے انتہائی عقیدت ومحبت یہ کام کرواگئی۔
اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں 29 لیکچرزنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ پرمشتمل تھےجس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سلسلہ وارحیات طیبہ کو بہترین اندازمیں پیش کیا اوراس کوپیش کرنے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرید بروہی صاحب تھے۔ان تمام 29 لیکچرز کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی اور مدنی زندگی کو اور نبی کریم کی ولادت باسعادت سے لے کروصال تک کےتمام گوشوں کا بہت خوبصورتی سےاحاطہ کیا گیا۔ان 29 لیکچرز کےعلاؤہ بھی سیرت کے کئی موضوعات پر گفتگو کی گئی جو درج ذیل ہیں۔
☀️رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیت رحمت اللعالمین
☀️رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیت والد
☀️ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم بحیثیت استادو معلم
☀️ رسول بحیثیت مثالی شوہر
☀️ رسول بحیثیت حکمران
☀️ رسول بحیثیت محسن انسانیت
☀️ رسول بحیثیت داعی
☀️ رسول کے مسلمانوں پر حقوق
☀️ سماجی خدمات اور اسوہ رسول
☀️رسول ص غیر مسلموں کی نظر میں
☀️رسول اللہ کی ضرورت و اہمیت
سیرتِ النبی کےلیکچرزکا یہ سلسلہ نہایت مفید تھا،اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں فطری انسانی زندگی کےہراہم شعبے اور پہلوسے متعلق موضوعات موجود تھے.یہ ساری حیثیتیں وہ ہیں جن کےذریعےسیرت النبی سےانسان ہدایت حاصل کرسکتےہیں اور یہی سیرت طیبہ کا خاص وصف ہےکہ وہ فطری انسانی زندگی کے ہرقابل ذکر شعبے میں رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔
قرآن کریم میں سورہ الاحزاب میں لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنہ کہہ کراسی اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ان لیکچرز کی اہمیت کا دوسراپہلو یہ بھی تھاکہ سننے والوں کوایک ہی جگہ اور بعض اوقات ایک ہی نشست میں سیرت طیبہ کے متنوع پہلوؤں کو سننے،سمجھنے اور ان سے سیکھنے کا موقع مل گیا۔اس لیکچر کے سلسلے کی تیسری خاص بات یہ تھی کہ اہل علم خواتین و حضرات نے سیرت کے مخصوص پہلوؤں پر خطاب کیا اوریہ تقریباً تمام ہی تقاریرنہایت آ سان،عام فہم اور سلیس انداز میں کی گئیں۔اس انداز کی وجہ سے زبان پر بہت زیادہ دسترس نہ رکھنے والے طلباء کو بھی آ سانی سے سیکھنے کا موقع مل گیا اور انہیں زبان وبیان کی دیگر مشکلات سے کشتی نہیں لڑنی پڑی۔چوتھی خاص بات اس سلسلہء تقاریر کی یہ تھی کہ مقررین اور معزز اساتذہ کرام نے کسی اختلافی،متنازع نکتے کو نہیں چھیڑااور سیرت طیبہ کی وہ تصویر طلباء کے سامنے آئی جو غیرمتنازع ہے۔
اس سلسلےکی پانچویں اہم بات یہ تھی کہ تقاریر کادورانیہ مناسب تھا ۔نہ بہت مختصرنہ طویل، ان لیکچرز کے ساتھ ہمیں دعاؤں کا ایک پی ڈی ایف بھی بھیجا گیا جس میں دعاؤں کے ساتھ اس سے متعلق سوالات بھی تھےجن کے جوابات ہمیں لکھ کردینے تھے۔ دعائیں یاد بھی کرنی تھیں۔اپنے حلقہ اثرمیں لوگوں کو یاد بھی کروانی تھیں۔یہ دعائیں قرآن کریم اور احادیث میں سے لی گئی تھیں۔
آخر میں امتحان لیا گیا ۔اس کےلئےہمیں ایک تاثراتی فارم ارسال کیا گیاجس میں دئیےگئےسوالات کے جوابات دینے تھےجو ان تمام لیکچرز سے متعلق تھے اور خاص تاکید تھی کہ سرٹیفیکیٹ ان ہی لوگوں کوملے گا جو اس فارم کو پرکریں گے۔مجھے دعوہ اکیڈمی کے اس آ ن لائن پروگرام سےکئی فوائد حاصل ہوئے جویہ ہیں۔۔۔۔۔
.سیرت کے بہت سے پہلوؤں سے آگاہی بڑھ گئی۔علم میں اضافہ ہوا،عمل کےلئےمحرکات فراہم ہوئے،اخلاق و معاملات کودرست کرنے پر بھی توجہ دینے کا موقع ملےگا۔ سیرت طیبہ کے بعض گوشے اور نمایاں ہو گئے،اچھی ،معیاری اورعلمی گفتگوسننے کا موقع ملا جس میں بہتاچھا قیمتی وقت صرف ہوا۔سیرت کےاس پروگرام سے جو اصول اور رہنمائی ملی وہ یہ کہ سیرت طیبہ بنیادی طور پر تحمل ، برداشت اور رواداری کامجموعہ ہے لہٰذا یہ خوبیاں اپنےاندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیں۔ایک اصول یہ بھی حاصل ہوا کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو سیرت طیبہ کی رہنمائی سے محروم نہیں ۔یہ بھی اصول بہت اہم محسوس ہوا کہ سیرت طیبہ کو اپنےمسلسل مطالعے میں رکھا جائے خواہ وہ مطالعہ کم ہویا زیادہ ہو۔ اس کا ایک اصول یہ بھی نکلا کہ سیرت کا جتنا علم زیادہ ہوگا اتنا ہی زندگی کےمعاملات قرآن و سنت پراستوار ہوں گےاوران لیکچرز سےایک نوعیت کی یاددہانی حاصل ہوئی کیونکہ انسان مسلسل یاددہانی اورتذکیر کامحتاج ہے،لہٰذا ہم اپنے معاملات کی درستی کےلئے ان لیکچرز سے باآسانی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔
غرض یہ کہ،دعوہ مرکز برائے خواتین کی یہ کوشش نہایت بابرکت،کامیاب اور عمدہ رہی۔سیرت طیبہ کی بات اس کےذریعےسے بہت لوگوں تک پہنچ گئی۔کرنے والوں نے اپنا کام کردیا اب یہ سننے والوں پر منحصر ھے کہ وہ اس عظیم الشان کوشش سے کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔





































