
اسماء معظم/حریم ادب
تیسرےحج کی خوشی میں مونا نےگھر میں آج ایک بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا تھا ۔سسرال اور میکے دونوں طرف کے تمام لوگوں کو
مدعو کیا تھا۔ آج مونا کی کوٹھی قمقموں سے جگمگ جگمگ کر رہی تھی۔ کل ہی وہ ٹیلر سے اپنا انتہائی قیمتی اور شاندار سوٹ لے کر آئی تھی ۔اس نے منہ بولے دام بھی تو لیے تھے کیونکہ وہ یہ بتا چکی تھی کہ یہ حج کی دعوت کی خوشی میں سلوارہی ہوں تو دھیان سے اچھا سا سوٹ سینا اور خوب اچھی فیٹنگ کرنا۔ وہ ابھی اپنے سوٹ کو ہینگر کرہی رہی تھی کہ بیل کی آواز آئی! ٹنگ ٹونگ۔۔۔۔۔۔ دیکھو کون آیا ہے؟ اتنی دیر سے بیل بج رہی ہے مجال ہے تم لوگوں کے کان پر جوں تک رہنگے، ہر وقت موبائل پر جھکے رہتے ہو یہ نہیں ہوتا کہ اٹھ کر دیکھو کہ کون آیا ہے ؟اواز آ ئ باجی میں ہوں سکینہ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ماسی سکینہ کو دیکھتے ہی موناپھٹ پڑی۔۔۔۔۔۔ اتنی دیر ہوگئی اور تم اب آئی ہو۔ تمہیں پتا ہے کہ آج گھر میں فنکشن ہے اور پھر بھی لیٹ آ ئیں، مجال ہے جو وقت پر آ جاؤ، روز کا تماشا بنایا ہوا ہے ۔۔۔آج کل کی تو ماسیوں نےتوناک میں دم کر رکھا ہے ۔
ارے کیوں غصہ کر رہی ہو اس کو دم تو لینے دو، مونا کے شوہر نے موناسے کہا ۔
آپ تو ہر وقت اس کی طرفداری ہی کرتے رہتے ہیں۔
اچھا بھئ ایک کپ چائے تو بنا دو بڑا دل چاہ رہا ہےچائے کا۔
اس وقت چائے ؟مونا نےلفظ چائے پر زور دے کر کہا،
ہا ں ہا ں چائے بہت تھکن ہو رہی ہے ،
بھئ کوئی چائے واےنہیں ۔مونا نے صاف انکار کردیا۔
تین حج کر لئے مجال ہے جو عادتوں میں ذرا بھی تبدیلی آئی ہو ،زبان قینچی کی طرح چلتی رہتی ہے، زبان پر ذرا سابھی کنٹرول نہیں۔ایسے حج کا کیا فائدہ ؟جن کاموں سے تم اتنا الجھ رہی ہو ،یہ تو تم نے خود مول لیے ہیں، تم سے کس نے کہا تھا کہ تیسرے حج کی بھی دعوت رکھ لو ۔مو نا کے شوھر نے مونا سے کہا... تھوڑی دیر بعد ہی نند داخل ہوئیں ۔چار بچے ان کے ساتھ تھے۔ نند کو دیکھتے ہی مونا کا منہ کڑوا ہوگیا۔
اوفو! سب سے پہلے تو یہی پہنچتی ہیں،لگتا ہےگھرمیں انہیں کام ہی نہیں ہے،مصیبت ہےاب انہیں دیکھوان کے چاروں بچوں کو دیکھو دو تو گم سم بیٹھے رہتے ہیں لیکن باقی دو کتنے بدتمیز ہیں ۔
لواب ساس صاحبہ بھی کام سے گئیں، تھوڑی بہت جو مدد کروالیتی تھیں، اب توبیٹی کےآنے کےبعد ان کی کمرسے کمر ملاکر ہی بیٹھ جائیں گی ۔۔۔۔۔کیا مصیبت ہے ۔وہ جھنجلاہٹ میں مبتلا ہو گئی۔
تھوڑی دیر میں مونا کو یاد آیا کہ ڈرائیور کومٹھائی لانے کو کہا تھا وہ ابھی تک نہیں آیا۔ مونا نے ڈرائیور کو بھی نہ بخشا اور موبائل اٹھا کر اس کوبھی کھری کھری سنا دیں ۔
وہ حج ہی کیا جس کے بعد نہ عادتیں بدلیں ،نہ مزاج میں کوئی تبدیلی واقع ہو،نہ خیالات میں اورنہ ہی آدمی انسان اورخدا سے قریب ہو ،جبکہ حج کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !،کہ
"انسان حج کے بعد ایسا ہوتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو".
اور یہ اسی وقت ہوگا جب ہم اپنے آ پ کوخود بدلنا چاہیں گے ۔اگر حج کو صرف تفریح سمجھ لیا جائے تو کیسی تبدیلی اور کہاں کی تبدیلی ؟حج تو لوگوں کو صالح اور پاکیزہ بنا کر ہی واپس لاتا ہے اور حج تو اللہ کو وہ مطلوب ہے جو زندگی بدل دے۔ اس کےمزاج میں تبدیلی آئے، اس کے رویوں میں تبدیلی آئے ، اسکی زبان شائستگی اختیار کر ے، غرض یہ کہ پسند ناپسند اللہ کی مرضی کے مطابق ہو۔
کتنے بدنصیب ہیں جو حج پہ حج کے جاتے ہیں لیکن روزوشب ان کے وہی رہتے ہیں جو پہلے تھے۔ وہی دن چڑھے سونا ،ٹی وی کے آ گے بیٹھ کر لایعنی اور فضول چیزیں دیکھنا ، بےمقصد رسائلِ پڑھنا، مخلوط محافل میں شریک ہونا،غیر ساتر لباس زیب تن کرنا،اپنے اخلاق اور رویوں میں کوئی تبدیلی نہ لانا،معاملات میں بھی اپنے مزاج دکھاے بغیر نہ رہنا غرض یہ کہ جو دل میں آ ے کر نا، جو دل نہ چاہے وہ نہ کرنا ،حالانکہ حج تو اتنی بڑی چیز ہے کہ وہ تو تقوی اختیار کرنے کا مطالبہ کر تا ہے ہر سوچ، ہر بات اور ہر ہر کام صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے مرضی کے مطابق ہو۔
ومن یعظم شعائر اللہ فا نھامن تقوی القلوب (الحج: آ یت نمبر 32)
ترجمہ:" اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے ۔"
یعنی یہ احترام دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ آ دمی کے دل میں کچھ نہ کچھ خدا کا خوف ہے جبھی تو وہ اس کے شعائر کا احترام کر رہا ہے۔اور یہی وہ تقویٰ ہے۔۔۔۔۔ تعظیم اور اللہ سے محبت کا مجموعہ۔۔۔۔۔۔۔ جو حج کے سفر کااصل زاد راہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حج جیسی بڑی سعادت عطا کرے۔ اپنے گھر کی زیارت کے ساتھ ساتھ بہترین تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔





































