
مجاہد عالم ندوی/ پٹنہ
عورت کی زبان وہ تلوار ہے جو کبھی زنگ آلود نہیں ہوتی ہے
بد زبانی ایسی بری عادت ہےجس میں یہ عادت پائی جاتی ہے لوگ اس سےدور بھاگتے ہیں۔ وہ شخص دوسروں کی نظرسے گر جاتا ہے ، سب اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں اوراس سے ملنا پسند نہیں کرتے ہیں ۔
بد گمانی بھی بد گوئی ہی کی طرح حرام ہے۔شریعت میں برےخیالات اورشک تومعاف ہےلیکن بد گمانی ممنوع ہے۔برا گمان یہ ہے کہ انسان کا نفس اس کی طرف جھک جائے اور دل اس کی طرف مائل ہو جائے۔قرآن مجید کا فرمان ہے ۔ ٫٫ اے ایمان والو! کثرت گمان سے بچوکیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ٬٬۔
اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے محض بد گمانی سے نہیں روکا بلکہ اس نے کثرتِ گمان سے روکا ہے ، آپ کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ آپ کسی کے بارے میں برا گمان رکھیں جب تک آپ کے سامنے کوئی ایسی واضح دلیل ظاہر نہ ہو جائے ۔
اسلام نےجانوروں کو برا بھلا کہنےسےروکا ہےتوانسانوں کولعن طعن کی کیسےاجازت دے سکتا ہے ۔
زبان سے صادر ہونے والے بد ترین گناہوں میں لعن و طعن اور فحش کلامی داخل ہے۔کسی بھی صاحب ایمان کو بد زبانی زیب نہیں دیتی ، بد زبانی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کوتکلیف پہنچتی ہے ۔
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ٫٫ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ،،۔
بد زبانی ہی کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے جب کہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صاف صاف فرمایا ہے کہ ٫٫ مسلمان کو برا بھلا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ لڑنا کفر ہے ،،۔
جس کی بیوی بد زبان ہو اس کو ساری زندگی سکون نہیں مل سکتا ہے ، عورت کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان کے اندر نرمی اور میٹھاس پیدا کرے اور اچھے انداز سے بات کرے ، عورت کی زبان میں نرمی ہونی چاہیے ، جہاں کسی غیر مرد سے بات کرنے کا وقت ہو تو سختی سے بات کرے تاکہ اسے دوسری بات پوچھنے کی ہمت نہ ہو ، آج کل کی فیشن عورتوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے ، خاوند سے بات کرنی ہو تو ساری دنیا کی کڑواہٹ سمٹ آتی ہے اور اگر کسی غیر مرد سے بات کرنی ہو تو ساری دنیا کی شیرنی سمٹ آتی ہے ۔
بہرحال! یہ مسلمہ حقیقت ہےکہ جن رشتوں کو تلوارنہیں کاٹ سکتی ہے۔اس کوزبان کاٹ کرکےرکھ دیتی ہےچونکہ عورت کی زبان وہ تلوار ہے جو کبھی زنگ آلود نہیں ہوتی۔ بعض عورتیں تو اتنی بد زبان ہوتی ہیں کہ اگر وہ عورتیں نہ ہوتی تو ناقابل برداشت ہوتیں۔ کئی عورتیں تو بد زبانی اور بد گمانی ہی کی وجہ سے گھر برباد کر لیتی ہیں ۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر عورت سارے دن ایک مرتبہ اپنے شوہر سے نرمی سے بات کرے جس نرمی سے وہ پڑوسی مرد یا دیگرغیرمحرم سے بات کرتی ہے تو ہی گھرآباد رہے گا ۔
ایک بد چلن عورت کا واقعہ
بنی اسرائیل کے یہاں پہاڑ ایک تھا۔جسے وہ بڑی عظمت والاسمجھتے تھے ۔ اس کی بڑی عظمت و توقیر کرتے تھے ۔اگر کسی بات کا فیصلہ کرتے وقت قسم کھانے کی نوبت آ جاتی تو اس پہاڑ پر چڑھ کر قسم کھاتے اور اسے سچا سمجھتے تھے ۔
اس شہر میں ایک خوبصورت عورت تھی جس کا کسی ایک نوجوان سےناجائز تعلق بن گیا تھا ۔عورت اس کو اپنے مکان میں بلانا شروع کر دیا ۔ شوہر کو شک پیدا ہو گیا۔ بیوی سے کہا کہ مجھے شبہ ہے کہ میری غیر موجودگی میں کوئی تمہارے پاس آتا ہے ، عورت نے انکار کیا۔ شوہر نے کہا کہ اگر تو سچی ہے تو پھر پہاڑ پر چڑھ کر قسم کھا لے کہ تیرا کسی سے کوئی ناجائز تعلق نہیں ہے ۔ عورت نے کہا ہاں میں پہاڑ پر چڑھ کر قسم کھانے کے لیے تیار ہوں ۔
اِدھر اس عورت نے چھپ کر اپنے محبوب سے یہ کہ دیا کہ کل تم پہاڑ کے نیچے ایک گدھا لے کر کھڑا رہنا ، میں اور میرا شوہر پہاڑ پر چڑھنے کے لیے وہاں آئیں گے ، اور میں شوہر سے کہوں گی کہ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے میں تھک جاؤں گی اس بہانے تمہارا گدھا کرائے پر لے کر اس پہاڑ پر چڑھوں گی ، تم گدھے والے کے بھیس میں وہاں موجود رہنا اور مجھے گدھے پر سوار کر کے میرے ساتھ چڑھنا ۔
چنانچہ! جب دوسرے روزمیاں بیوی پہاڑ پرچڑھنے گھرسے نکلے اورچلتے چلتے پہاڑ کے پاس پہونچے تو وہاں اس کا محبوب گدھے والے کے بھیس میں گدھا لے کر کھڑا تھا ، عورت نے شوہر سے کہا چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں مجھے یہ گدھا کرائے پر سواری کے لیے دو ، شوہر نے گدھے والےسے کرایہ مقرر کیا اور بیوی کو گدھے پر سوار کر کے تینوں پہاڑ پر چڑھنے لگے ، جب وہ جگہ آئی جہاں لوگ قسمیں کھاتے تھے، تو اس مکار عورت نے اپنے آپ کو گدھے سے نیچے گرا دیا ۔اس گرنے میں اس نے اپنا بدن بھی برہنہ کردیا اور ایسی صورت پیدا کر دکھائی کہ شوہر یہ سمجھا کہ گدھے سے اتفاقاً گر کر برہنہ ہوئی ہے۔ وہ اٹھی اور اپنا لباس درست کر کے پہاڑ کی قسم کھانے والی جگہ پر کھڑی ہو کر کہنے لگی " میں قسم کھاتی ہوں میرے برہنہ بدن کو آج تک تمہارے سوا اور اس گدھے والے کے سواکسی اور نے نہیں دیکھا ہے " شوہر مطمئن ہوگیا کیونکہ اس نے یہ سمجھا کہ اس گدھے والے نے اسے گرتے ہوئے اس کے برہنہ بدن اتفاقاً دیکھا ہے ۔
تو آپ نے دیکھا جب عورت مکر و فریب پرآ جائےتو ایسی چالاکیاں دیکھا کر شوہر کو بے وقوف بنا دیتی ہیں لیکن یہ پتہ نہیں کہ آج یہ گناہ کسی مکرو فریب سے چھپا بھی لیا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا تو کل قیامت کے دن یہ بات نہیں چھپے گی ، اس لیے کہ اللّٰہ تعالٰی کو سب معلوم ہے۔ اللّٰہ تعالٰی سے کوئی کام چھپا ہوا نہیں ہے۔ دنیا والوں سے چھپ سکتا ہے لیکن اللّٰہ تعالٰی سے نہیں چھپ سکتا ہے ۔
حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم نےفرمایا ہےکہ "میں نے جہنم میں ایسی عورت کو دیکھا جس پرعذاب ہورہا تھا اور وہ اپنی زبان کی بل لٹکی ہوئی تھی ، یہ وہ عورت تھی جو زبان دراز تھی "۔ یعنی منہ پھٹ تھی ، شوہر سے بد تمیزی کرنے والی تھی ۔اپنی باتوں سے دوسرے کے دلوں پر زخم لگاتی تھی اور دوسروں کو تکلیف پہنچاتی تھی ۔
دوسری جگہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ " میں نے جہنم میں ایسی عورت کو دیکھا ، جس کا چہرہ خنزیرکی طرح بن گیا تھا ، اور اس کا جسم گدھے کی طرح تھا "۔ یعنی اس کی صورت اورجسم کو مسخ کر دیا گیا تھا ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا " یہ وہ عورت تھی جو جھوٹ بولتی تھی ۔غیبت کرتی تھی ،چغل خوری کرتی تھی"۔
بد زبانی اور فحش کلامی سےانسان کا وقار خاک میں مل جاتا ہے ، خواہ آدمی کتنا ہی باصلاحیت اور اونچے عہدے پر فائز ہو لیکن بد زبانی کی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے ۔ اس لیے اپنی عزت اور وقار کی حفاظت کے لیے بھی زبان پر کنٹرول کرنا اور اسے بد کلامی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔





































