
مجاہد عالم ندوی/ پٹنہ
یوں تو اردو شاعری میں بہت سے مشہور شعراء گزرے ہیں ،جیسےکہ میر تقی میر، محمد رفیع ، سودا ،مرزا غالب ، حالی ،
وغیرہ لیکن جو پیغام ہمیں اقبال کی شاعری میں ملتا ہےوہ بالکل منفرد ہے۔اقبال نےغزلیں بھی لکھی ہیں اور نظمیں بھی ، بچوں کے لیے ان کی نظمیں نہایت سادہ اور سلیس زبان میں ہیں ۔
یہ وہی علامہ اقبال ہیں جنہوں نے ترانہ ہند ٫٫ سارے جہاں سے اچھاہندوستاں ہمارا ٬٬ لکھا ہے ، ڈاکٹر علامہ اقبال نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھی ہیں ۔ ان نظموں میں کوئی نہ کوئی سبق پوشیدہ ہے ۔اگرچہ ان کی شاعری الفاظ کا گنجینہ ہے ، انہوں نے نئی نئی تراکیب ترتیب دی ہیں ۔انہوں نے بہت سےالفاظ کو نئے انداز میں پیش کیا ہے لیکن انہوں نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھی ہیں وہ نہایت سادہ زبان میں ہیں ، یہ ان کی زبان پر قدرت کی دلیل ہے ۔
اقبال بچوں کو ایک پیغام دینا چاہتے تھے۔ وہ ان میں امنگ ،ولولہ اورجوش و جذبہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعے بچوں کو بہت عمدہ نصیحتیں کی ہیں ۔
علامہ اقبال 9 نومبر 1877 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ، آپ کےوالد کا نام شیخ نور محمد تھا ۔اقبال بچپن سے ہی بہت ذہین اور حاضر دماغ تھے ۔انٹر میڈیٹ انہوں نے مشن کالج سیالکوٹ سے کیا۔ اس کے بعد لاہور کے گورنمنٹ کالج سے 1897 ء میں بی اے کا امتحان نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا ۔ 1899 ء میں فلسفہ میں ایم اے اس وقت کے مایہ ناز پروفیسر آرنلڈ کی زیر نگرانی میں مکمل کیا ۔
اقبال گورنمنٹ کالج لاہور میں 1930 ء میں فلسفہ کے پروفیسر مقررہوئے۔ اس کے بعدبھی اقبال نے اپنا تعلیمی سفرٓجاری رکھا ، 1905 ء میں مزید تعلیم کے لیے جرمنی پہنچے ،جہاں سے انہوں نے تین سال میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا اور ہندوستان واپس آ گئے۔ یوروپ سے واپسی کے بعد انہوں نے پھر گورنمنٹ کالج میں پڑھانا شروع کر دیالیکن جلد ہی اس سلسلے سے اوب گئے اور کالج کی نوکری چھوڑ کر وکالت کرنے لگے ۔
اقبال کو کم عمر سے ہی شعر وشاعری کا شوق تھا ، یوروپ جانےسے قبل بھی وہ نظمیں لکھا کرتے تھے ، وہاں سے واپسی کے بعد ان کی شاعری میں مزید نکھار آ گیا ، انہوں نے اپنی غزلوں اور نظموں سے انسانوں خاص کر مسلمانوں کو سر بلندی کا پیغام دیا ، ان کی شاعری میں جہاں ایک طرف اپنے وطن سے محبت جھلکتی ہے، وہیں اپنی قوم کے لیے دل میں درد اور تڑپ بھی عیاں ہے۔ بچوں کے لیے انہوں نے جونظمیں لکھیں وہ بہت مقبول ہوئیں ۔ خاص کر بچے کی دعا : لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ۔جسے آج کل اکثر اسکولوں میں صبح اسمبلی کے دوران پڑھتے ہیں۔ ان کی نظم ٫ ہمدردی ،میں جگنو اور بلبل کے حوالے سے انسانوں کو ہمدردی کا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہمیں ضرورت کے وقت دوسرے انسانوں کی مدد کرنی چاہیے۔ اس نظم کا انداز بیاں نہایت سادہ اور پر اثر ہے ۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
اسی طرح اپنی ایک اور نظم ٫ پہاڑ اور گلہری میں علامہ اقبال نے بتایا ہےکہ دنیا میں کوئی بھی چیزبیکار نہیں ہے،ہر چیز کا ایک خاص کام اور مقام ہے ۔
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کار خانے میں
اقبال کے اس پیغام کو ہم اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ تلوار او سوئی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ایک نہایت بڑی اورطاقتور اور دوسری نہایت چھوٹی اور کمزور ، لیکن جس طرح تلوار کا کام ہم سوئی سے نہیں لےسکتے بالکل اسی طرح سوئی کا کام تلوار سے نہیں لیا جا سکتا ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔
ان کے علاوہ بچوں کےلیےاقبال کی دوسری مشہورنظمیں ہیں۔ماں کاخواب،ایک گائےاوربکری،ان میں سے ہرنظم میں اقبال نے کوئی نہ کوئی پیغام دیاہے ۔
اقبال نے فارسی میں بھی شاعری کی ہےلیکن انہیں زیادہ شہرت اپنی اردو شاعری کےسبب ہی ملی ۔ان کے مجموعے کلام میں ٫ بانگ درا ، بال جبرئیل ٬ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
اتنے بڑے شاعرہونےکےبعد بھی اقبال انتہائی سادہ زندگی گزارتےتھے۔وہ ایک رحم دل اورخوش مزاج انسان تھےجس محفل میں بیٹھتے اسے اپنی ظرافت سے گل و گلزاربنا دیتے تھے ۔
ْشوخی ، ظرافت ان میں لڑکپن سے ہی موجود تھی ، ایک روز انہیں اسکول پہنچنے میں دیر ہوگئی ،ماسٹر صاحب نے ٹوکا ، ٫٫ اقبال! تم اتنے دیر سے آئے ہو۔ انہوں نے بر جستہ جواب دیا ، جی ہاں ! اقبال دیر سے ہی آتا ہے ٬٬۔
اقبال 1937ء میں دمہ کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ ان کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی ، تقریباً ایک سال بیمار رہنے کے بعد 2 ، اپریل 1938ء کو اقبال نے اس دار فانی سے کوچ کیا ۔
اقبال آج اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی شاعری ہمارے درمیان زندہ ہے۔ وہ ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہے گی ۔ اردو شاعری جب تک زندہ رہے گی اور جب تک اردو زبان زندہ رہے گی۔ اقبال بھی زندہ رہیں گے ۔ ہندوستان میں ان کا یوم پیدائش یوم اردو کے طور پرمنایا جاتا ہے ۔





































