
نزہت ریاض
فرحانہ بیگم سبزی کی مارکیٹ میں داخل ہوی اور اپنی مطلوبہ سبزیون کی تلاش میں نظر ادھر ادھر گھمانے لگیں مارکیٹ کے بلکل درمیان
مین نظر پڑی تو کیا دیکھتی ہیں غرور سے سر اٹھاۓ گردن اکڑاۓ ایک سبزی والا کھڑا ہے جس کے ٹھیلے پر صرف ٹماٹر تھے.لال لال گول صاف ستھرے ٹماٹر سب سے پہلے ٹماٹر ہی "لے لوں" سوچ کر ٹماٹر کے ٹھیلے پر جا کر رک رک گئ ٹماٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ایک چنگھاڑتی ہوئ آواز آئ او خالہ فرحانہ بیگم کا ہاتھ ٹماٹر تک پہچنے کے بجائے ہوا میں معلق رہ گیا اور گھبرا کر ٹماٹر والے کو گھورنے لگین اور بولیں "اے منحوس مارے کیو ں اتنی زور سے چلا رہا ہے میں تو ڈر ہی گئ".ٹماٹر والا فخریہ انداز میں بولا ابھی
ٹماٹر کے دام سن کر تو اور ڈر کے دل تھام لو گی ہارٹ اٹیک ہی نہ ہو جائے.ٹماٹر دو سو روپے کلو ہے. سوچ سمجھ کر ہاتھ لگانا. فرحانہ بیگم کی آنکھیں مارے دہشت کے پھٹی کی پھٹی رہ گیں آواز حلق میں پھنس گئ بڑی مشکل سے بولیں
"اۓ کیا کہ رہا ہے دو سو روپے کلو!. پچھلے ہفتے تو ساٹھ روپے لے کر گئ ہوں آج ایساکیا ہو گیا!" "خالہ ٹماٹر پیچھے سے مہنگا آرہا ہے ہم کیا کریں تم ایک ہفتے بعد آئ ہو یہاں تو روز دام بڑھتے ہیں. اب بتاؤ لو گی یا نہیں" فرحانہ بیگم نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولیں "ہاں بیٹا یہ تو صحیح کہا تو نے مہنگائی تو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے پہلےغریب انسان اور کچھ نہ ہو تو آلو میں پیاز اور ٹماٹر ڈال کر پکا لیا کرتا تھا وہی تینوں چیزیں ذرا کم دام میں مل جایا کرتی تھیں.
اب ان پر بھی مہنگائ کی آگ لگی ہوئ ہے اور ٹماٹر تو ان سب کا بادشاہ بن گیا ہے. چل بیٹا ایک پاؤ ٹماٹر ہی دے دو". "ایک پاؤ تو ساٹھ کے دونگا! کلو دو سو کے ہیں" سبزی والا مغرور لہجے میں بولا أے وہ کیوں. خالہ سب کما رہے ہیں تو میں کیوں نہ کماوں اورلاو عمران خان کو بڑے شوق سے ووٹ دینے گی ہوں گی نہ اب دو گی ووٹ ایسے لوگوں کو.ارے نہیں بیٹا کھی نہیں ووٹ قوم کی امانت ہے اور ہم نے سوچے سمجھے بنا ووٹ نہیں دینا ہے . چلو اس بات پر تم کو پچاس کے ایک پاو ٹماٹر دیتا ہوں أگے سے ہمیشہ سوچ سمجھ کر ووٹ دینا.





































