
نزہت ریاض
گیارہ دسمبر 2021 کی رات کراچی کے علاقے صدر میں بیوی نیے شوہر کو قتل کر کےلاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے.عورت جس کی
شان میں شاعروں نے ہزاروں دیوان لکھ ڈالے جس کی نزاکت اور حسن کے سامنے اپنے وقت کے بادشاہوں نے سلطنت کو ٹھوکر مار ڈالی ۔سب سے بڑھ کر ہمارے پیارے نبی کریم نے عورتوں کو عزت دینے کی اعلیٰ مثال دنیا کے سامنے پیش کی ۔
أج ہمارے معاشرے کا المیہ کیا بن چکا ہے,عورت کیوں اپنا تقدس کھو بیٹھی ہے. أج کی عورت کا نعرہ میراجسم میری مرضی اپنا کھانا خود گرم کرو.میں تمھارے موزے نہیں ڈھونڈوں گی بن گیا ہۓ۔ اور اسی پرکافی نہیں تھا کہ اب شوہر کو قتل کرنے کی ہمت کر بیٹھی. چوہے چھپکلی اور کاکروچ سے ڈر جانے والی عورتوں نۓ أج چاقو چھری کیسے اٹھا ڈالی. ہمارے گھروں میں فرنیچر کی سیٹنگ بھی چینچ کرنی ہو تو مرد کی مدد درکارہوتی ہے. عورت کے نازک ہاتھ ایک الماری نہیں کھسکا سکتے اور اس عورت نے چھ فٹ کے مرد کو نہ صرف قتل کیا بلکہ اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور پھر اطمینان سے سو بھی گئی۔
ابھی ایسے واقعات کم سننے میں أتےہیں مگر ہمارا معاشرہ اندھی تقلید کا عادی ہے ۔کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ایسے واقعات کے عام ہونے کا انتظار کریں۔ نہیں ایک ماں ایک نسل بنانے کی ذمہ دار ہوتی ہے. اسی لۓ میری اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ہر ماں سے گزارش ہے اپنی بچیوں کو کم عمری سے ہی انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی کلاسوں میں بھی ضرور بھیجیں قران کے ترجمہ تشریح اور تفسیر کی کلاسز میں خود بھی جائیں اور بچیوں کو تو ضرور لے کر جائیں اللہ ہر ایک کی بیٹی کے نصیب بہت اچھے کرے اور صنف نازک صنف نازک ہی رہے.





































