
نزہت ریاض
ہم نےاپنے بڑوں سے ہمیشہ ایک بات سنی تھی کہ علم حاصل کروماں کی گود سےلحد تک اور ایک بات یہ بھی کہ علم حاصل
کروچاہے اس کیلئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے ہرممکن کوشش بھی کرتےہیں ۔اپنی ضروریات اورخواہشات کو پس پشت ڈال کراپنے بچوں کو اچھےسےاچھے تعلیمی ادارے میں داخل کرواتےہیں ۔
تعلیمی ادارہ وہ جگہ ہوتی ہےجہاں بچےکو پانچ ،چھ گھنٹے رہنا ہوتاہےاوروالدین انہیں وہاں علم سکیھنے کیلئے بھیجتے ہیں،اسی لیے والدین کو کوئی ڈریاخوف نہیں ہوتا۔ انہیں معلوم ہوتاہےکہ ان کا بچہ اسکول سے کچھ اچھا ہی سیکھ کرآئےگا اور ایسا ہوتا بھی تھا۔ أج سے دس ،پندرہ سال پہلے تک بھی تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہت بہترتھی مگر افسوس کہ دور جدید نے نےجہاں ہرخاص وعام کومتاثر کیا،وہیں تعلیمی اداروں کو بھی نہیں بخشا ۔ اسکولوں کے معیار کو اب فیسوں کےحساب سےپرکھاجانےلگا، جتنی تگڑی فیس ہوگا،اتنا اچھا اسکول کہلائےگا ۔ کیا علامہ اقبال سرسیداحمد خان اور قائد اعظم نے پرایویٹ اسکولز سے اپنی تعلیم کاآغاز کیا تھا۔
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر کون سے ہائی فائی اسکول سےپڑھ کر اتنےعظیم سائنسدان بنےتھے،جب ہم نے ان اسکولزکو بڑھاوا دینا شروع کیا ،تو ان اسکولزنے اپنی فتنہ ترازیوں کا دائرہ بڑھانا شروع کر دیا،جس کی تازہ مثال مشہور گلوکارعاطف اسلم کا اسکول میں جاکرکنسرٹ کرنا ہے،اب مقدس تعلیمی اداروں میں بےہودہ اوربے ہنگم میوزک کا شورسنائی دےگا۔
علم کی طلب میں آنےوالےبچےعاطف کےگانوں پر کولہے مٹکائیں گےاور ٹیچرزکمرہلا ہلا کرداد عیش پیش کریں گی۔اب وہ وقت دورنہیں جب چاند سورج کےساتھ ساتھ علم کوبھی گرہن لگنے والا ہے۔





































