
نزہت ریاض /حریم ادب
تجربہ اورمشاہدہ دوایسی چیزیں ہیں جووقت اورعمر کے ساتھ آتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نےأج سے ۸۲ سال قبل یعنی ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو دو قومی نظریہ
کے تحت ایک آزاد مملکت کےحصول کے لیے قرارداد پیش کی۔ ہمارے بزرگ بخوبی یہ بات سمجھتے اورجانتے تھے کہ مسلمان اور ہندو کبھی بھی ایک قوم نہیں ہوسکتے۔قیام پاکستان سے پہلے بھی ہندوقوم کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب سےبھرپورتھا۔
نہ ہندوستان میں مسلمانوں کوتعلیم کی سہولت میسرتھی نہ اچھی ملازمتوں پران کا کوئی حق تھااورنہ انہیں مذہبی آزادی حاصل تھی ۔ قائد اعظم ایک باشعوراوراعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تھے۔وہ بہت غوروفکرسے ان ساری ناانصافیوں پرنظررکھے ہوئےتھےاور یہی وہ ناانصافیاں تھیں جن کی بدولت قومی نظریہ وجودمیں آیا۔
یہ توبات ہوئی أج سے۸۲ سال پہلے کی اور اب ہم آج کے ہندوستان پرنظر ڈالیں تو ہمارا سرکبھی بھی سجدہ شکر سے نہیں اٹھ سکتا آج کے ہندوستان کی حالت زاد دیکھ کر۔پھر ہم اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے ہمارے بہت آگے کا سوچا اور بہت اچھا سوچا۔آج ہم آزاد ہیں ،خوش ہیں ،آزاد فضا میں سانسیں لے رہے ہیں ۔
اگرآج ہم ہندوستان میں رہ رہےہوتے تو شاید ہم وہاں تیسرے درجے کے شہری سے بھی بدتر حالت میں ہوتے ۔جتنا شدت پسند أج کا ہندوستان ہے، اتنا تو قیام پاکستان کے وقت بھی نہیں ہوگا ۔کشمیرپر قبضہ آئے دن سرحد پارسے بلااشتعال فائرنگ، سمندرری حدود کی خلاف ورزی اس کا معمول بن گئی ہے ۔
ہمارے ماہی گیربھائیوں کی گرفتاریاں۔ وہاں کے مسلمانوں سے روا رکھا جانے والا سلوک ،اسکولز میں حجاب پر پابندی ،گائے ذبح کرنے پر مسلمانوں کا ناحق قتل ۔۔۔ آج بھارت شرپسندی کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔
آج ہندوستان کی متعصبانہ سوچ عالمی سطح پر دنیا کے سامنے آچکی ہے۔میں نے تحریرکے شروع میں تجربےکی بات اسی لیے کی تھی کی ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے۔ قائد اعظم کا علامہ اقبال کا سر سید کا اور ان سارے رہنماؤں اور بزرگوں کا جنہوں نے ہمارے لیےایک آزاد وطن حاصل کیا اور اسی کیلئے ۲۳ مارچ کو ایک ایسی قرارداد پیش کی جس کی وجہ سے ہم أج أذاد فضاء میں سانس لے رہے ہیں۔





































