
نزہت ر یاض
آج سے سات دن پہلے کورنگی میں رہائش پزیر ۱۴سالہ ساتویں جماعت کی بچی دعا زہرا اپنے گھرکی سیڑھی اترکرڈسٹ بن نیچےرکھنے آئی اورغائب ہو گئی ۔
اللہ جانےاسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا کراچی ہویا قصور یا پا کستان کا کوئی اور گاؤں دیہات۔۔۔۔۔ ایسے واقعات جب بھی ہوئے ہیں ،انجام ایک جیسا ہی نظر آیاہے،کسی زینب کی لاش کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی توکسی کی پانی کے ٹینک سے۔۔۔ اللہ نہ کرے کہ حالیہ کیس میں دعا کے ساتھ ایسا ہو،مگر اس ماں کے دل کی حالت کیا ہوگی، جس کی جوان بچی کی سات دن سے کوئی خبرنہیں ۔یہ ماں سات راتوں سےسوئی نہیں ۔ یہاں میں کراچی کی پولیس کی کارکردگی کا ذکر ضرورکرنا چاہوں گی، جب اہل خانہ دعا کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے گئےتو ان کا پہلا جواب یہ تھا کہ ہم فی الحال جلسےجلوسوں کی ڈیوٹیاں نمٹارہے ہیں۔ فرصت ملتے ہی آپ کی بیٹی کے لیےبھی کارروائی کرتےہیں۔ایک طرف تو غم زدہ اہل خانہ دوسری جانب پولیس کا جواب۔۔بہت خوب ۔۔۔۔ میں پوچھتی ہوں ان بھیڑیوں میں جنہوں نے دعا کواغوا کیا اوران اداروں میں کیا فرق رہ جاتا ہے ۔جنہیں کسی کے دکھ کا احساس نہیں۔
ایک عام شہری اپنی داد رسی کے لیے کہاں جائے کون ہے جو مسیحائی کرے گا ۔اللہ کسی بھی ماں کوایسا وقت نہ دکھائے کہ وہ اپنی بچی کےزندہ أنے کی امید میں ان لوگوں کوبددعائیں تک نہیں دےرہی کہ کیا پتا ،اللہ ان کے دل میں رحم ڈال دے اور وہ میری بچی کوچھوڑدیں ۔۔۔۔ اس ماں کا کہنا ہےکہ میں ان لوگوں کے خلاف کوئی بھی کیس نہیں کروں گی، بس وہ میری بچی کو چھوڑدیں ۔۔۔۔۔۔ اللہ اس ماں کو ہمت اور حوصلہ اورصحت دے اور ان درندوں کو ان کے عبرت ناک انجام سے دو چار کرے کہ جن کےدل میں نہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں بھی کوئی خوف نہ آیا۔۔۔ اللہ میرے وطن کی بلکہ کل عالم کی بچیوں کو ایسے درندوں سےمحفوظ رکھے۔آمین





































