
شبانہ اشفاق
منیزہ منیزہ منیزہ کی امی منیزہ کوآوازدیتی ہوئی اس کےکمرے تک آئیں اورپھرکچھ دیرخاموش کھڑی رہیں،دروازہ کھٹکائےبغیرواپس چلی گئیں۔ ٹی وی
لاؤنج میں صوفے پربیٹھ کرکسی گہری سوچ میں گم ہوگئیں ۔پھرماضی کےدروازےکھلناشروع ہوگئے،ان کےدوبچےتھےسعد اور منیزہ دونوں کی عمر میں ایک سال کاوقفہ تھا ، ہم عمر ہی لگتےتھے۔ ایک ساتھ اسکول جانا، کھیلنا ہرجگہ دونوں ساتھ ساتھ رہتے تھے ۔دونوں میں پیار بھی بہت تھا ،اسی طرح وقت گزرتا گیا، دونوں نےمیٹرک پاس کرلیا۔ ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ۳۱ دسمبر کی رات جب دونوں ضد کر رہے تھے کہ ہمیں نئےسال کی رونق دیکھنی ہے۔ سعد بائیک کی طرف بڑھا منیزہ سےکہا کہ نئے سال کی رونق دیکھنے چلتےہیں۔
سڑک پر بائیک گھومارہےتھے، نئےسال کی رونق دیکھ رہےتھےکہ پورے بارہ بجے پٹاخوں کی آوازگونجیں اوراس کےساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی ہونا شروع ہوگئی ،نہ جانے کہاں سے گولی آئی اور سعد کا سینہ چیرتی ہوئی نکل گئی ۔
منیزہ سڑک پردوڑتی رہی لوگوں کوپکارتی رہی مگر سب اپنی خوشیوں میں مگن کسی نے بھی اس کی آوازنہ سنی بلآخرسعد کی سانس کی ڈورٹوٹ گئی۔ اس واقعہ کو پانچ سال گزرچکےہیں لیکن جب بھی ۳۱ دسمبرآتاہے،منیزہ اسی طرح اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیتی ہے۔
ادھرمنزہ سوچ رہی ہے کہ ہمارے دین میں اسی وجہ سےفضول قسم کےرسم ورواج نہیں ہیں۔ہماری عافیت اسی طریقہ زندگی میں ہےجو محمد صلی الله علیہ وسلم لے کرآئےہیں۔





































