
شبانہ اشفاق
کراچی بارونق شہرہے۔روشنیوں کا شہر گہما گہمی ایسی کہ نہ دن کا معلوم نہ رات کا پتہ ۔۔۔۔۔ ہرشخص اپنی زندگی میں مصروف ہے۔ زندگی کیا ہے ہر شخص
روبورٹ بنا ہوا ہے۔ مرد حضرات صبح سات بجے سے آفس کےلئے گھر سے نکلتے ہیں تو شام سات بجے گھرواپس آتےہیں۔ لمبے لمبے فاصلےاوپر سے روڈ کی خستہ حالی انتہائی تھکا دیتی ہے کہ گھر واپس آنے کے بعد کوئی بھی کام کرنے کا دل نہیں چاہتا۔ بس آرام کریں تاکہ صبح کے لیے تازہ دم ہو کر پھر آفس جانے کی تیاری کریں ۔
ایسا ہی کچھ حال خواتین کا ہے،صبح ناشتے کے بعد اورمردحضرات اوربچوں کےجانے کے بعد گھر کے کام کاج میں مصروف ہو جاتیں ہیں گھر کا سودا سلف بھی خود لے کر آنا ۔کراچی میں سبزی اور پھل والے ہر محلے میں آواز لگاتے ہیں کہ سبزی لے لو ۔۔ یہ خواتین کے لیے آسانی ہو جاتی ہے کہ اپنے دروازے سے باہر نکل کر سبزی خرید لیتی ہیں۔ رحیم بابا کی آواز سن کر محلے کی خواتین ان کی ریڑھی کے گرد جمع ہو جاتیں اور ان سے سبزی خریدتی تھیں ۔ ان کی سبزی تازہ ہوتی اور مناسب قیمت میں دیتے تھے اس وجہ سے اکثر خواتین انہیں سے سبزی خریدتی تھیں اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ رحیم بابا پانچ وقت کے نمازی بھی تھے، جس محلے میں نماز کا وقت ہوتا ریڑی وہی چھوڑ کر پہلے مسجد میں با جماعت نماز ادا کرتے شاہد یہ وجہ بھی تھی کہ رحیم بابا کی سبزی میں ذائقہ بھی تھا۔
ایک دن صنوبر نے رحیم بابا سے ان کے گھر کے بارے میں پوچھا کہ آپ کے کتنے بچے ہیں۔بابانےکہا کہ میرا ایک بیٹا ہے فرسٹ ائیر میں پڑھتا ہے ۔میری خواہش ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے ہم نے کہا کہ ان شاءاللہ ضرور بنے گا۔ آمین کچھ دونوں سےرحیم بابا کی آواز نہیں آرہی تھی ۔محلے کی سب خواتین پریشان تھی کہ معلوم نہیں رحیم بابا کیوں نہیں آرہے ہیں پھر اچانک رحیم بابا کی آواز آئی کہ سبزی ہے لو ۔
محلے کی سب خواتین ریڑھی کے گرد جمع ہو گئیں۔ سب خواتین کوتشویش تھی سب نے بڑی بے چینی سے پوچھا کہ بابا کافی دونوں کے بعد آئے ہو سب خیریت ہے نا؟ رحیم بابا نے کہا کہ طبعیت ٹھیک نہیں تھی ،اس وجہ سے نہیں آس کا سب روز کی روٹین کے کام میں مصروف ہوگئے۔ ایک دن رحیم بابا آئے اور محلے کی خواتین ریڑی کے گرد جمع تھیں اور سبزی چیک کرکے شاپر میں رکھ رہی تھیں کہ ان کی نظر رحیم بابا کے ساتھ کھڑے لڑکے پر پڑی ۔
انہوں نے پوچھا کہ بابا یہ کون ہے، بابا نے بتایا کہ یہ میرا بیٹا کریم ہے ۔اچھا وہی جس کو آپ ڈاکٹربنانا چاہتےہیں ۔ بابا نے کہا کہ ہاں ان کی آواز میں مایوسی لگ رہی تھی ۔ اس وقت تو کسی کو سمجھ نہیں آئی اور سبزی لے کر سب اپنے اپنے دروازے کی طرف بڑھ گئی اور روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔ تین ماہ ہوگئے رحیم بابا کی آواز نہیں آئی اللہ خیر کرے طبعیت ٹھیک نہیں تھی روز بروز کمزور ہوتے جارہے تھے پھر ایک دن اچانک آواز آئی کہ سبزی لے لو سب خواتین ریڑی کے گرد جمع ہو گئی مگر یہ کیا وہ حیران ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی وہ رحیم بابا نہیں تھے۔ ان کا بیٹا کریم تھا سب نے حیران ہو کر پوچھا کہ تم رحیم بابا کہاں ہیں ، اس نے کہا کہ ک کافی عرصے سے بابا کی طبیعت خراب چل رہی تھی کجھ دن پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔ صنوبر نے پریشانی کے عالم میں پوچھا مگر وہ تمہیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اس نے کہا کہ کچھ خواب ادھورے رہ جاتے ہیں ۔





































